الفتح الربانی
كتاب الحج والعمرة— حج اور عمرہ کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي نِكَاحِ الْمُحْرِمِ وَإِنْكَاحِهِ وَخُطْبَتِهِ باب: احرام کی حالت میں نکاح کرنے یا کروانے یا نکاح کا پیغام بھیجنے کا بیان
عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا حَلَالًا، وَبَنَى بِهَا حَلَالًا وَمَاتَتْ بِسَرِفَ فَدَفَنَّاهَا فِي الظُّلَّةِ الَّتِي بَنَى بِهَا فِيهَا، فَنَزَلْنَا فِي قَبْرِهَا أَنَا وَابْنُ عَبَّاسٍ۔ یزید بن اصم سے روایت ہے کہ زوجۂ رسول سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا یہ بیان کرتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب ان سے نکاح کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حلال تھے، اسی طرح جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے خلوت اختیار کی تو اس وقت بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم احرام کی حالت میں نہیں تھے۔ بعد میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کا انتقال بھی سرف کے مقام پر ہوا تھا، ہم نے انہیں اسی سائے میں دفن کیا تھا،جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے ساتھ شب باشی کی تھی، میں اور سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ان کی قبر میں اترے تھے۔