الفتح الربانی
كتاب الحج والعمرة— حج اور عمرہ کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي نِكَاحِ الْمُحْرِمِ وَإِنْكَاحِهِ وَخُطْبَتِهِ باب: احرام کی حالت میں نکاح کرنے یا کروانے یا نکاح کا پیغام بھیجنے کا بیان
حدیث نمبر: 4283
عَنْ عِكْرَمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا أَنْ يَتَزَوَّجَ الرَّجُلُ وَهُوَ مُحْرِمٌ وَيَقُولُ إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ بِمَاءٍ يُقَالُ لَهُ سَرِفُ، وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَلَمَّا قَضَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَجَّتَهُ أَقْبَلَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِذَلِكَ الْمَاءِ أَعْرَسَ بِهَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عکرمہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ احرام کی حالت میں شادی کر لینے میں کوئی حرج خیال نہیں کرتے تھے، کیونکہ وہ کہتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے احرام کی حالت میں شادی کی تھی، جبکہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سرف مقام پر پانی کے پاس تھے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا حج پورا کر لیا تو اسی پانی کے پاس آ ئے تو ان کی رخصتی عمل میں آئی۔