الفتح الربانی
كتاب الحج والعمرة— حج اور عمرہ کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي نِكَاحِ الْمُحْرِمِ وَإِنْكَاحِهِ وَخُطْبَتِهِ باب: احرام کی حالت میں نکاح کرنے یا کروانے یا نکاح کا پیغام بھیجنے کا بیان
حدیث نمبر: 4281
عَنْ نُبَيْحِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ وَكَانَ يَخْطُبُ بِنْتَ شَيْبَةَ بْنِ عُثْمَانَ عَلَى ابْنِهِ، فَأَرْسَلَ إِلَى أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ وَهُوَ عَلَى الْمَوْسِمِ، فَقَالَ: أَلَا أُرَاهُ أَعْرَابِيًّا، إِنَّ الْمُحْرِمَ لَا يَنْكِحُ وَلَا يُنْكِحُ، أَخْبَرَنِي بِذَلِكَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَحَدَّثَنِي نُبَيْحٌ عَنْ أَبِيهِ بِنَحْوِهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ نُبَیہ بن وہب کہتے ہیں: عمر بن عبید اللہ اپنے بیٹے (طلحہ) کے لیے شیبہ بن عثمان کی بیٹی کا رشتہ لینا چاہتے تھے، پس انھوں نے ابان بن عثمان کی طرف پیغام بھیجا، جبکہ وہ اس وقت امیرِ حج تھے، انھوں نے کہا: میرا خیال ہے کہ یہ شخص بھی بدّو ہی ہے، (جو شرعی احکام سے جاہل ہے)، بات یہ ہے کہ محرم نہ نکاح کر سکتا ہے اور نہ کروا سکتا ہے، مجھے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کی تھی۔