الفتح الربانی
كتاب الحج والعمرة— حج اور عمرہ کے ابواب
بَابُ حَدِيثِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَتَعَدُّدِ طُرُقِهِ فِي الرُّخْصَةِ فِي حَلْقِ باب: سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث اور اس کے متعدد طرق کا بیان
حدیث نمبر: 4278
(وَمِنْ طَرِيقٍ سَابِعٍ) عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَمِلْتُ، حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّ كُلَّ شَعْرَةٍ مِنْ رَأْسِي فِيهَا الْقَمْلُ مِنْ أَصْلِهَا إِلَى فَرْعِهَا، فَأَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَأَى ذَلِكَ قَالَ: ((احْلِقْ)) وَنَزَلَتِ الْآيَةُ، قَالَ: ((أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ ثَلَاثَةَ أَصْوَعٍ مِنْ تَمْرٍ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (ساتویں سند) سیدنا کعب بن عجرہ کہتے ہیں:میرے سر میں اس قدر جوئیں ہو گئیں کہ مجھے یہ گمان ہونے لگا کہ میرے سر کے ہر ہر بال کی جڑ سے لے کر اوپر تک جوئیں ہی جوئیں ہیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرایہ حال دیکھا تو فرمایا: سر منڈا دو۔ اور اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چھ مساکین کو تین صاع کھجوریں کھلا دو۔