الفتح الربانی
كتاب الحج والعمرة— حج اور عمرہ کے ابواب
بَابُ حَدِيثِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَتَعَدُّدِ طُرُقِهِ فِي الرُّخْصَةِ فِي حَلْقِ باب: سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث اور اس کے متعدد طرق کا بیان
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَةِ، وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ وَقَدْ حَصَرَنَا الْمُشْرِكُونَ وَكَانَتْ لِي وَفْرَةٌ فَجَعَلَتِ الْهَوَامُّ تَسَاقَطُ عَلَى وَجْهِي، فَمَرَّ بِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ؟)) قُلْتُ: نَعَمْ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَحْلِقَ، قَالَ: وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ}۔ سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حدیبیہ کے مقام پر احرام کی حالت میں تھے، مشرکین مکہ نے ہمیں آگے جانے سے روک دیا، میرے لمبے لمبے بال تھے اورجوئیں میرے چہرے پر گر رہی تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا میرے پاس سے گزر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا تمہارے سر کی جوئیں تمہیں تکلیف دے رہی ہیں؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے سر منڈانے کا حکم دیا اور یہ آیت نازل ہوئی: {فَمَنْ کَانَ … أَوْصَدَقَۃٍ أَوْ نُسُکٍ}(تم میں سے جو آدمی مریض ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو، تو وہ بال منڈوالے اور روزوں کا،یا صدقہ کا یا قربانی کا فدیہ دے)۔