الفتح الربانی
كتاب الحج والعمرة— حج اور عمرہ کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحِجَامَةِ وَالْاكْتِحَالِ وَغَسْلِ الرَّأْسِ لِلْمُحْرِمِ باب: محرم کے لیے سینگی لگوانے، سرمہ لگانے اور سر دھونے کا بیان
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: اخْتَلَفَ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ وَابْنُ عَبَّاسٍ فِي الْمُحْرِمِ يَغْسِلُ رَأْسَهُ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: يَغْسِلُ، وَقَالَ الْمِسْوَرُ: لَا يَغْسِلُ، فَأَرْسَلُونِي إِلَى أَبِي أَيُّوبَ فَسَأَلْتُهُ، فَصَبَّ عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ ثُمَّ أَقْبَلَ بِيَدَيْهِ وَأَدْبَرَ بِهِمَا، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ۔ (دوسری سند) عبد اللہ بن حنین کہتے ہیں: سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا اس بارے میں اختلاف ہوا کہ محرم اپنا سر دھو سکتا ہے یا نہیں؟ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: دھو سکتا ہے، لیکن سیدنا مسور رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں دھو سکتا، ان دونوں نے مجھے سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے ہاں بھیجا تاکہ میں ان سے یہ مسئلہ پوچھ کر آؤں، جب میں نے ان سے جا کر پوچھا تو انہوں نے اپنے سر پر پانی ڈالا اور اپنے دونوں ہاتھوں کو آگے پیچھے گھمایا اور پھر کہا: میں نے دیکھا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے ہی کیا تھا۔