حدیث نمبر: 4266
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: اخْتَلَفَ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ وَابْنُ عَبَّاسٍ فِي الْمُحْرِمِ يَغْسِلُ رَأْسَهُ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: يَغْسِلُ، وَقَالَ الْمِسْوَرُ: لَا يَغْسِلُ، فَأَرْسَلُونِي إِلَى أَبِي أَيُّوبَ فَسَأَلْتُهُ، فَصَبَّ عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ ثُمَّ أَقْبَلَ بِيَدَيْهِ وَأَدْبَرَ بِهِمَا، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند) عبد اللہ بن حنین کہتے ہیں: سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا اس بارے میں اختلاف ہوا کہ محرم اپنا سر دھو سکتا ہے یا نہیں؟ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: دھو سکتا ہے، لیکن سیدنا مسور رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں دھو سکتا، ان دونوں نے مجھے سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے ہاں بھیجا تاکہ میں ان سے یہ مسئلہ پوچھ کر آؤں، جب میں نے ان سے جا کر پوچھا تو انہوں نے اپنے سر پر پانی ڈالا اور اپنے دونوں ہاتھوں کو آگے پیچھے گھمایا اور پھر کہا: میں نے دیکھا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے ہی کیا تھا۔

وضاحت:
فوائد: … محرم کے نہانے، سردھونے اور آنکھ کوئی دوا وغیرہ ڈالنے میں کوئی حرج نہیں ہے، سینگی لگوانے کا مسئلہ باب کے شروع میں گزر چکا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4266
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23944، 23975»