حدیث نمبر: 4265
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ وَالْمِسْوَرِ بِالْأَبْوَاءِ، فَتَحَدَّثْنَا حَتَّى ذَكَرْنَا غَسْلَ الْمُحْرِمِ رَأْسَهُ، فَقَالَ الْمِسْوَرُ: لَا، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: بَلَى، فَأَرْسَلَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ (الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) يَقْرَأُ عَلَيْكَ ابْنُ أَخِيكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ السَّلَامَ وَيَسْأَلُكَ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ مُحْرِمًا، قَالَ: فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ بَيْنَ قَرْنَيْ بِئْرٍ قَدْ سَتَرَ عَلَيْهِ بِثَوْبٍ، فَلَمَّا اسْتَبَنْتُ بِهِ ضَمَّ الثَّوْبَ إِلَى صَدْرِهِ حَتَّى بَدَا لِي وَجْهُهُ وَرَأَيْتُهُ وَإِنْسَانٌ قَائِمٌ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ، قَالَ: فَأَشَارَ أَبُو أَيُّوبَ بِيَدِهِ عَلَى رَأْسِهِ جَمِيعًا عَلَى جَمِيعِ رَأْسِهِ، أَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ، فَقَالَ الْمِسْوَرُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: لَا أُمَارِيكَ أَبَدًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ عبد اللہ بن حنین کہتے ہیں: میں سیدنا عبد اللہ بن عباس اور سیدنا مسور رضی اللہ عنہما کے ساتھ ابواء کے مقام پر تھا، ہم باتیں کر رہے تھے، دورانِ گفتگو یہ ذکر ہونے لگا کہ محرم اپنا سر دھو سکتا ہے یا نہیں؟ سیدنا مسور رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں دھو سکتا، لیکن سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: دھو سکتا ہے، پھر سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھے سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے ہاں بھیجا اوریہ پیغام دیا کہ ان کو کہنا کہ آپ کا بھتیجا عبد اللہ آپ کو سلام کہتاہے اور یہ پوچھتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم احرام کی حالت میں اپنا سر کس طرح دھویا کرتے تھے؟ جب میں وہاں پہنچا تو انہیں اس حال میں پایا کہ وہ ایک کنوئیں کے دو ستونوں کے درمیان غسل کر رہے تھے اور کپڑے سے پردہ کیا ہوا تھا، جب میں ان کے سامنے ظاہر ہوا تو انہوں نے پردے والے کپڑے کو سینہ تک نیچے کیا، سو ان کا چہرہ میرے لئے ظاہر ہوا، میں نے دیکھا کہ ایک آدمی کھڑا ہوکر ان کے سر پر پانی ڈال رہا تھا۔ (جب میں نے یہ سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم احرام کی حالت میں اپنے سر کو کیسے دھوتے تھے؟) تو سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اکٹھاکرکے اپنے پورے سر پر آگے پیچھے پھیرا، جب میں نے واپس جا کر ساری بات ذکر کی تو سیدنا مسور رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا: میں آئندہ آپ سے کوئی مباحثہ نہیں کروں گا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4265
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1840، ومسلم: 1205، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23578 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23975»