الفتح الربانی
كتاب الحج والعمرة— حج اور عمرہ کے ابواب
بَابُ نَزْعِ الْمَخِيطِ لِلْمُحْرِمِ وَمَا لَا يَجُوزُ لَهُ مِنَ الثِّيَابِ وَالطِّيبِ باب: محرم کے لئے جائز اور ناجائز امور کا بیان محرم کا سلے ہوئے کپڑے اتار دینے کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ کون سے کپڑے اور خوشبو اس کے لیے ناجائز ہے
حدیث نمبر: 4257
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوَقَصَتْهُ نَاقَتُهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ، وَلَا تُمِسُّوهُ بِطِيبٍ وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی (حج کے سفر میں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، اسے اس کی اونٹنی نے گرایا اور وہ اس وجہ سے احرام کی حالت میں ہی فوت ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دے کر اس کے انہی دو کپڑوں میں کفن دے دو اور اسے خوشبو لگاؤ نہ اس کا سر ڈھانپو، کیونکہ اسے قیامت کے دن اس حال میں اٹھایا جائے گا کہ یہ تلبیہ پکار رہا ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … احرام کی حالت میں وفات پانے والے کے کتنے خوبصورت احکام بیان کیے جا رہے ہیں، ایسے لگ رہا ہے کہ یہ شخص مرنے کے بعد بھی محرِم ہے، اس پر مستزاد یہ کہ یہ جس حالت میں فوت ہوا، قیامت والے دن اسی حالت پر اٹھے گا اور اس پر حج کی علامت موجود ہو گی۔