الفتح الربانی
كتاب الحج والعمرة— حج اور عمرہ کے ابواب
بَابُ نَزْعِ الْمَخِيطِ لِلْمُحْرِمِ وَمَا لَا يَجُوزُ لَهُ مِنَ الثِّيَابِ وَالطِّيبِ باب: محرم کے لئے جائز اور ناجائز امور کا بیان محرم کا سلے ہوئے کپڑے اتار دینے کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ کون سے کپڑے اور خوشبو اس کے لیے ناجائز ہے
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ عَطَاءٍ عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ وَعَلَيْهِ رَدْعٌ مِنْ زَعْفَرَانٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أَحْرَمْتُ فِيمَا تَرَى وَالنَّاسُ يَسْخَرُونَ مِنِّي، وَأَطْرَقَ هُنَيْهَةً، قَالَ: ثُمَّ دَعَاهُ فَقَالَ: ((اخْلَعْ عَنْكَ هَذِهِ الْجُبَّةَ وَاغْسِلْ عَنْكَ هَذَا الزَّعْفَرَانَ وَاصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ كَمَا تَصْنَعُ فِي حَجَّتِكَ))۔ (دوسری سند) سیدنایعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا، جبکہ اس نے جبہ پہنا ہوا تھا اور اس پر زعفران کی خوشبو کے نشانات واضح تھے، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے جس حال میں دیکھ رہے ہیں، میں نے اسی حالت میں احرام باندھا ہے، جبکہ لوگ مجھ سے مذاق کر رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ دیر کے لیے سر جھکا لیا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص کو بلایا اور اس سے فرمایا: تم یہ جبہ اتار دو اور اس زعفران کو دھو ڈالو اورعمرہ میں باقی کام اسی طرح انجام دو، جیسے حج میں کرتے ہو۔