حدیث نمبر: 4256
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ عَطَاءٍ عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ وَعَلَيْهِ رَدْعٌ مِنْ زَعْفَرَانٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أَحْرَمْتُ فِيمَا تَرَى وَالنَّاسُ يَسْخَرُونَ مِنِّي، وَأَطْرَقَ هُنَيْهَةً، قَالَ: ثُمَّ دَعَاهُ فَقَالَ: ((اخْلَعْ عَنْكَ هَذِهِ الْجُبَّةَ وَاغْسِلْ عَنْكَ هَذَا الزَّعْفَرَانَ وَاصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ كَمَا تَصْنَعُ فِي حَجَّتِكَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند) سیدنایعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا، جبکہ اس نے جبہ پہنا ہوا تھا اور اس پر زعفران کی خوشبو کے نشانات واضح تھے، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے جس حال میں دیکھ رہے ہیں، میں نے اسی حالت میں احرام باندھا ہے، جبکہ لوگ مجھ سے مذاق کر رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ دیر کے لیے سر جھکا لیا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص کو بلایا اور اس سے فرمایا: تم یہ جبہ اتار دو اور اس زعفران کو دھو ڈالو اورعمرہ میں باقی کام اسی طرح انجام دو، جیسے حج میں کرتے ہو۔

وضاحت:
فوائد: … لوگوں کے مذاق کرنے کی وجہ یہ تھی کہ اس نے بے علمی کی وجہ سے احرام کی حالت میں جُبّہ پہنا ہوا تھااور خوب زعفران لگائی ہوئی تھی، جبکہ یہ احکام دوسرے صحابہ کے لیے معروف تھے۔ حدیث نمبر (۴۱۶۱)میں اس حدیث سے متعلقہ احکام بیان کیے جا چکے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4256
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18128»