حدیث نمبر: 4255
عَنْ عَطَاءٍ أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ يَعْلَى كَانَ يَقُولُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: لَيْتَنِي أَرَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ يُنْزَلُ عَلَيْهِ، قَالَ: فَلَمَّا كَانَ بِالْجِعْرَانَةِ وَعَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَوْبٌ قَدْ أُظِلَّ بِهِ، مَعَهُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، مِنْهُمْ عُمَرُ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ، عَلَيْهِ جُبَّةٌ مُتَضَمِّخٌ بِطِيبٍ (وَفِي لَفْظٍ: وَهُوَ مُتَضَمِّخٌ بِخَلُوقٍ وَعَلَيْهِ مُقَطَّعَاتٌ) قَالَ: فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ تَرَى فِي رَجُلٍ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ فِي جُبَّةٍ بَعْدَ مَا تَضَمَّخَ بِطِيبٍ فَنَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَاعَةً ثُمَّ سَكَتَ، فَجَاءَهُ الْوَحْيُ، فَأَشَارَ عُمَرُ إِلَى يَعْلَى أَنْ تَعَالَ، فَجَاءَهُ يَعْلَى فَأَدْخَلَ رَأْسَهُ (وَفِي لَفْظٍ قَالَ: فَأَدْخَلْتُ رَأْسِي مَعَهُمْ فِي السِّتْرِ) فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُحْمَرُّ الْوَجْهِ يَغِطُّ كَذَلِكَ سَاعَةً ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ، فَقَالَ: ((أَيْنَ الَّذِي سَأَلَنِي عَنِ الْعُمْرَةِ آنِفًا؟)) فَالْتُمِسَ الرَّجُلُ فَأُتِيَ بِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَمَّا الطِّيبُ الَّذِي بِكَ فَاغْسِلْهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَأَمَّا الْجُبَّةُ، فَانْزِعْهَا ثُمَّ اصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ كَمَا تَصْنَعُ فِي حَجَّتِكَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ صفوان بن یعلی بن امیہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنایعلی، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا کرتے تھے کہ میری خواہش ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہو رہی ہو تو میں اس کیفیت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھوں۔ بعد میں ایک دن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جعرانہ مقام میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوپر ایک کپڑے سے سایہ کیا گیا تھا، صحابہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، اسی دوران ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا، جبکہ اس نے ایک جبہ پہنا ہوا تھا اور اس سے خوشبو آ رہی تھی، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس آدمی کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے جس نے اچھی طرح خوشبو ملنے کے بعد جبہ میں عمرہ کا احرام باندھا ہو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ دیر اس کی طرف دیکھا اور پھر خاموش ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی کا نزول شروع ہو گیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنایعلی رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کیا کہ ادھر آؤ، چنانچہ سیدنایعلی رضی اللہ عنہ آئے اور اپنا سر کپڑے کے اندر داخل کر لیا، انھوں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرۂ مبارک سرخ ہو رہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خراٹے لے رہے تھے، کچھ دیریہی کیفیت رہی، بعد ازاں یہ زائل ہو گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی ابھی عمرہ کے بارے میں پوچھ رہا تھا، وہ کہاں ہے؟ جب اس شخص کو تلاش کرکے لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم پر جو خوشبو لگی ہوئی ہے، اسے تین دفعہ اچھی طرح دھو ڈالو، اور یہ جبہ اتار دو اور عمرہ کے لئے باقی سارے کام اسی طرح کرو جیسے حج میں کرتے ہو۔

وضاحت:
فوائد: … ’’مُقَطَّعَاتٌ‘‘ سے مرادسلے ہوئے کپڑے ہیں، صحیح مسلم کی روایت میں جبّہ کے ساتھ اس کی تفسیر بیان کی گئی ہے، اس لیے ہم نے ترجمہ کرتے ہوئے جُبَّہ کا ذکر کر دیا ہے۔ ’’عمرہ کے لئے باقی سارے کام اسی طرح کرو جیسے حج میں کرتے ہو۔‘‘ اس سے مراد یہ ہے جیسے حج میں طواف، سعی اور حجامت جیسے افعال کرتے ہو، اسی طرح عمرے میں بھی کرو، یا اس کا مفہوم یہ ہے کہ حج کے احرام میں جن امور سے اجتناب کرتے ہو، عمرے کے احرام میں بھی ان سے اجتناب کرو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4255
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1536، 4329، ومسلم: 1180، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17948 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18112»