الفتح الربانی
كتاب الحج والعمرة— حج اور عمرہ کے ابواب
بَابُ نَزْعِ الْمَخِيطِ لِلْمُحْرِمِ وَمَا لَا يَجُوزُ لَهُ مِنَ الثِّيَابِ وَالطِّيبِ باب: محرم کے لئے جائز اور ناجائز امور کا بیان محرم کا سلے ہوئے کپڑے اتار دینے کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ کون سے کپڑے اور خوشبو اس کے لیے ناجائز ہے
حدیث نمبر: 4254
عَنْ نَافِعٍ قَالَ: وَجَدَ ابْنُ عُمَرَ الْقُرَّ، وَهُوَ مُحْرِمٌ فَقَالَ: أَلْقِ عَلَيَّ ثَوْبًا، فَأَلْقَيْتُ عَلَيْهِ بُرْنُسًا فَأَخَّرَهُ، وَقَالَ: تُلْقِي عَلَيَّ ثَوْبًا قَدْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَلْبَسَهُ الْمُحْرِمُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ امام نافع کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو احرام کی حالت میں شدید سردی محسوس ہونے لگی، اس لیے انھوں نے کہا: مجھ پر کوئی کپڑا ڈالو، میں نے ان کے اوپر کوٹ ڈال دیا،لیکن انہوں نے اسے ہٹا دیا اور کہا: تم مجھ پر ایسا کپڑا ڈال رہے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محرم کو جس کو پہننے سے منع فرمایا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … کپڑے کو اوپر ڈالنے سے پہننا تو لازم نہیں آتا۔
معلوم ہوتا ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے احتیاط کرتے ہوئے اپنے اوپر بھی کوٹ کر رکھنا پسند نہیں کیایا پھر انہوں نے سمجھا ہوگا کہ جن کپڑوں سے محرم کو روکا گیا ہے وہ کسی شکل میں بھی اس کے لیے استعمال کرنے جائز نہیں۔ بہرحال اصل میں تو پہننے سے ہی روکا گیا ہے، تاکہ ہر قسم کے استعمال سے۔ (عبداللہ رفیق)
معلوم ہوتا ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے احتیاط کرتے ہوئے اپنے اوپر بھی کوٹ کر رکھنا پسند نہیں کیایا پھر انہوں نے سمجھا ہوگا کہ جن کپڑوں سے محرم کو روکا گیا ہے وہ کسی شکل میں بھی اس کے لیے استعمال کرنے جائز نہیں۔ بہرحال اصل میں تو پہننے سے ہی روکا گیا ہے، تاکہ ہر قسم کے استعمال سے۔ (عبداللہ رفیق)