الفتح الربانی
كتاب الحج والعمرة— حج اور عمرہ کے ابواب
بَابُ نَزْعِ الْمَخِيطِ لِلْمُحْرِمِ وَمَا لَا يَجُوزُ لَهُ مِنَ الثِّيَابِ وَالطِّيبِ باب: محرم کے لئے جائز اور ناجائز امور کا بیان محرم کا سلے ہوئے کپڑے اتار دینے کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ کون سے کپڑے اور خوشبو اس کے لیے ناجائز ہے
حدیث نمبر: 4247
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ رَابِعٍ) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَنْهَى النَّاسَ إِذَا أَحْرَمُوا عَمَّا يُكْرَهُ لَهُمْ: ((لَا تَلْبَسُوا الْعَمَائِمَ)) فَذَكَرَ نَحْوَهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (چوتھی سند) سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس منبر پر فرماتے ہوئے سنا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو احرام کے دوران ان امور سے منع کر رہے تھے، جو ان کے لیے ناپسند کیے جاتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: احرام کی حالت میں پگڑیاں نہ باندھا کرو، … ۔ باقی حدیث سابقہ حدیث کی مانند ہے۔
وضاحت:
فوائد: … قمیص اور شلوار سے منع کر کے یہ تنبیہ کر دی گئی کہ ہر وہ لباس منع ہے جو بدن یا کسی ایک عضو کے مطابق سلائی کیا جائے۔ ٹخنوں سے مراد ہر پاؤں کی وہ دو دو ہڈیاں ہیں، جو پنڈلی اور پاؤں کے جوڑ پر نظر آتی ہیں، عام طور پر ہم لوگ ان ہی ہڈیوں کو ٹخنے کہتے ہیں۔ نقاب سے مراد عورت کا چہرے پر کپڑے کا کسنا اور باندھنا ہے۔حافظ ابن حجر نے کہا: نقاب سے مراد وہ دوپٹہ ہے، جو ناک پر یا آنکھوں کے خانوں کے نیچے باندھا جاتا ہے۔لیکنیہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ جیسے مرد قمیص نہیں پہن سکتا ہے، لیکن اپنے بدن کو چادر سے ڈھانک سکتا ہے اور عورت دستانے نہیں پہن سکتی، لیکن اس کے دوپٹے یا چادر وغیرہ میں اس کے ہاتھ چھپ سکتے ہیں، اسی طرح اگر کوئی عورت اپنے چہرے پر اس طرح کپڑا کر لے، جو کہ نقاب سے مختلف ہو تو یہ جائز ہو گا، مثلا سر سے نیچے کپڑا لٹکا لینا، شیڈ والی ٹوپی پہن کر اس پر کپڑا لٹکا لینا۔ واللہ اعلم بالصواب۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ((نَھَی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم النِّسَائَ فِیْ اِحْرَامِھِنَّ عَنِ الْقُفَّازَیْنِ وَالنِّقَابِ وَمَا مَسَّ الْوَرسُ وَالزَّعْفَرَانُ مِنَ الثَّیَابِ وَلْتَلْبَسْ بَعْدَ ذَالِکَ مَا اَحَبَّتْ مِنْ اَلْوَانِ الثِّیَابِ مُعَصْفَرًا اَوْ خَزًّا اَوْ حُلِیًّا اَوْ سَرَاوِیْلَ اَوْ قَمِیْصًا اَوْ خُفًّا۔)) … (ابو داود: ۱۸۲۷)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں کو دورانِ احرام دستانوں، نقاب اور ان کپڑوں سے منع کیا، جس کو ورس یا زعفران لگا ہوا ہو، اس کے بعد عورت قسم قسم کے جو ملبوس پسند کرے، پہن سکتی ہے، وہ زرد رنگ کی عُصْفُر بوٹی سے رنگا ہوا ہو یا اون یا ریشم کا بناہوا ہو یا زیور ہو یا شلوار ہویا قمیص ہو یا موزہ ہو۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ((نَھَی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم النِّسَائَ فِیْ اِحْرَامِھِنَّ عَنِ الْقُفَّازَیْنِ وَالنِّقَابِ وَمَا مَسَّ الْوَرسُ وَالزَّعْفَرَانُ مِنَ الثَّیَابِ وَلْتَلْبَسْ بَعْدَ ذَالِکَ مَا اَحَبَّتْ مِنْ اَلْوَانِ الثِّیَابِ مُعَصْفَرًا اَوْ خَزًّا اَوْ حُلِیًّا اَوْ سَرَاوِیْلَ اَوْ قَمِیْصًا اَوْ خُفًّا۔)) … (ابو داود: ۱۸۲۷)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں کو دورانِ احرام دستانوں، نقاب اور ان کپڑوں سے منع کیا، جس کو ورس یا زعفران لگا ہوا ہو، اس کے بعد عورت قسم قسم کے جو ملبوس پسند کرے، پہن سکتی ہے، وہ زرد رنگ کی عُصْفُر بوٹی سے رنگا ہوا ہو یا اون یا ریشم کا بناہوا ہو یا زیور ہو یا شلوار ہویا قمیص ہو یا موزہ ہو۔