الفتح الربانی
كتاب الحج والعمرة— حج اور عمرہ کے ابواب
بَابُ نَزْعِ الْمَخِيطِ لِلْمُحْرِمِ وَمَا لَا يَجُوزُ لَهُ مِنَ الثِّيَابِ وَالطِّيبِ باب: محرم کے لئے جائز اور ناجائز امور کا بیان محرم کا سلے ہوئے کپڑے اتار دینے کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ کون سے کپڑے اور خوشبو اس کے لیے ناجائز ہے
حدیث نمبر: 4246
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ الْبُرْنُسَ وَلَا الْقَمِيصَ وَلَا الْعِمَامَةَ وَلَا السَّرَاوِيلَ وَلَا الْخُفَّيْنِ إِلَّا أَنْ يَضْطَرَّ، يَقْطَعُهُ مِنْ عِنْدِ الْكَعْبَيْنِ، وَلَا يَلْبَسَ ثَوْبًا مَسَّهُ الْوَرْسُ، وَلَا الزَعْفَرَانُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ غَسِيلًا))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (تیسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: محرم کوٹ یا برانڈی، قمیص، پگڑی، شلوار اور موزے نہیں پہن سکتا، اگر جوتے دستیاب نہ ہوں تو موزوں کو ٹخنوں سے نیچے تک کاٹ کر استعمال کر سکتا ہے، نیز وہ کپڑا بھی نہیں پہن سکتا، جس کو ورس یا زعفران خوشبو لگی ہوئی ہو، الّا یہ کہ وہ دھو لیا جائے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ((اِنْطَلَقَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مِنَ الْمَدِیْنَۃِ بَعْدَ مَا تَرَجَّلَ وَادَّھَنَ وَلَبِسَ اِزَارَہٗوَھُوَوَاَصْحَابُہٗ،فَلَمْیَنْہَ عَنْ شَیْئٍ مِنَ الْاَرْْدِیَۃِ وَالْاُزُرِ تُلْبَسُ اِلَّا الْمُزَعْفَرَۃَ الَّتِیتَرْدَعُ عَلَی الْجِلْدِ)) … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کنگھی کی، تیل لگایا اور ازار پہنا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ مدینہ سے چل پڑے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی چادر اور ازار پہننے سے منع نہیں کیا، مگر وہ زعفران والی چادر، جس سے زعفران جسم پر لگ جاتی ہو۔ (صحیح بخاری: ۱۵۴۵)