حدیث نمبر: 424
عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِرِجَالٍ مِنْ قُرَيْشٍ يَجُرُّونَ شَاةً لَهُمْ مِثْلَ الْحِمَارِ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَوْ أَخَذْتُمْ إِهَابَهَا)) قَالُوا: إِنَّهَا مَيْتَةٌ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يُطَهِّرُهَا الْمَاءُ وَالْقَرَظُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

زوجہ رسول سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ قریش کے چند مردوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ہوا، وہ ایک بکری کو گدھے کی طرح گھسیٹ کر لے جا رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”کاش تم اس کا چمڑا اتار لیتے۔“ انہوں نے کہا: ”یہ تو مردار ہے،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی اور قرظ اس کو پاک کر دیں گے۔“

وضاحت:
فوائد: … قرظ: یہ کیکر کے مشابہ ایک درخت ہوتا ہے، جس کے پتوں سے چمڑے کی دباغت کی جاتی ہے۔ ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مردار کا چمڑا رنگنے سے پاک ہو جاتا ہے، لیکن وہ اس عمل سے حلال نہیں ہوتا، حرام ہی رہتا ہے، اس طرح ایسے چمڑے کا کوئی جزو کھانا جائز نہیں ہو گا، ہم بلی کے جوٹھے کا حکم بیان کرتے وقت یہ و ضاحت کر آئے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ ایک چیز حرام ہو، لیکن پاک ہو، جیسے بلی ہے، کسی چیز کے حرام ہونے سے اس کا نجس ہونا لازم نہیں آتا، وہ اس وقت نجس ہو گی، جب شریعت اس کی وضاحت کرے گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 424
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف رشدين بن سعد ولجھالة عبد الله بن مالك وجھالة امه۔ أخرجه ابوداود: 4126، والنسائي: 7/ 174، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26833 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27370»