الفتح الربانی
كتاب الحج والعمرة— حج اور عمرہ کے ابواب
الْفَصْلُ الثَّالِثُ فِي مُدَّةِ التَّلْبِيَةِ وَفِعْلِهَا عَقِبَ الصَّلَاةِ باب: تلبیہ کے دورانیہ اور نمازوں کے بعد تلبیہ پکارنے کا بیان
عَنِ ابْنِ سَخْبَرَةَ قَالَ: غَدَوْنَا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَاتٍ، فَكَانَ يُلَبِّي، قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ رَجُلًا آدَمَ، لَهُ ضَفْرَانِ عَلَيْهِ مَسْحَةُ أَهْلِ الْبَادِيَةِ، فَاجْتَمَعَ عَلَيْهِ غَوْغَاءُ مِنْ غَوْغَاءِ النَّاسِ، قَالُوا: يَا أَعْرَابِيُّ! إِنَّ هَذَا الْيَوْمَ لَيْسَ يَوْمَ تَلْبِيَةٍ إِنَّمَا هُوَ يَوْمُ تَكْبِيرٍ، قَالَ: فَعِنْدَ ذَلِكَ الْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ: أَجَهَلُ النَّاسُ أَمْ نَسُوا؟ وَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ لَقَدْ خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَا تَرَكَ التَّلْبِيَةَ حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ إِلَّا أَنْ يُخْلِطَهَا بِتَكْبِيرٍ أَوْ تَهْلِيلٍ۔ ابن سنجرہ کہتے ہیں: ہم سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ منیٰ سے عرفات کو گئے، وہ تلبیہ پکارتے جارہے تھے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا رنگ گندمی تھا،ان کے سر پر دو لٹیں تھیں اور ان کا حلیہ دیہاتیوں کا سا تھا، ان کے تلبیہ کی آواز سن کر عام سادہ سے لوگوں نے شور مچا دیا اور کہنے لگے: ارے دیہاتی! آج تلبیہ کا دن نہیں ہے، تکبیرات کا دن ہے۔ یہ سن کر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے میری طرف دیکھا اور کہا: لوگوں کو سرے سے علم نہیں تھا یایہ بھول گئے ہیں؟ اس ذات کی قسم، جس نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث کیا، میں خود رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جا رہا تھا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمرۂ عقبہ کی رمی تک تلبیہ ترک نہیں کیا تھا، البتہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس دوران اللہ اکبر اور لا الہ الا اللہ بھی کہہ لیتے۔
یہ تلبیہ جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارتے ہوئے آخری کنکری کے ساتھ موقوف ہوگا۔ (ابن خزیمہ)