الفتح الربانی
كتاب الحج والعمرة— حج اور عمرہ کے ابواب
فِيهِ ثَلَاثَةُ فُصُولٍ - الْفَصْلُ الْأَوَّلُ فِيمَا جَاءَ فِي أَلْفَاظِهَا وَفَضْلِهَا باب: تلبیہ کے الفاظ اور اس کی فضیلت کا بیان
عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: أَتَيْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بِعَرَفَةَ وَهُوَ يَأْكُلُ رُمَّانًا، فَقَالَ: أَفْطَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ وَقَدْ بَعَثَتْ إِلَيْهِ أُمُّ الْفَضْلِ بِلَبَنٍ فَشَرِبَهُ، وَقَالَ: لَعَنَ اللَّهُ فُلَانًا، عَمَدُوا إِلَى أَعْظَمِ أَيَّامِ الْحَجِّ، فَمَحَوْا زِينَتَهُ، وَإِنَّمَا زِينَةُ الْحَجِّ التَّلْبِيَةُ۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں: میں عرفہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ انار کھا رہے تھے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرفہ میں روزہ نہیں رکھا تھا، سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں دودھ بھیجا تھا ، جسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نوش فرما لیا تھا، پھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: اللہ تعالی فلاں آدمی پر لعنت کرے،انہوں نے ایام حج میں سے سب سے زیادہ عظمت والے دن کی طرف قصد کیا اور اس کی زینت کو مٹا ڈالا، حج کی زینت تلبیہ ہے۔