حدیث نمبر: 4230
عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: أَتَيْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بِعَرَفَةَ وَهُوَ يَأْكُلُ رُمَّانًا، فَقَالَ: أَفْطَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ وَقَدْ بَعَثَتْ إِلَيْهِ أُمُّ الْفَضْلِ بِلَبَنٍ فَشَرِبَهُ، وَقَالَ: لَعَنَ اللَّهُ فُلَانًا، عَمَدُوا إِلَى أَعْظَمِ أَيَّامِ الْحَجِّ، فَمَحَوْا زِينَتَهُ، وَإِنَّمَا زِينَةُ الْحَجِّ التَّلْبِيَةُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں: میں عرفہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ انار کھا رہے تھے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرفہ میں روزہ نہیں رکھا تھا، سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں دودھ بھیجا تھا ، جسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نوش فرما لیا تھا، پھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: اللہ تعالی فلاں آدمی پر لعنت کرے،انہوں نے ایام حج میں سے سب سے زیادہ عظمت والے دن کی طرف قصد کیا اور اس کی زینت کو مٹا ڈالا، حج کی زینت تلبیہ ہے۔

وضاحت:
فوائد: … ممکن ہے کہ یہ ملعون عرب کا کوئی مشرک ہو، ایام حج سے مراد وہ دن ہیں، جن میں تلبیہ کہا جاتا ہے، اگلے باب میں ان کی وضاحت کی جائے گی۔ زینت کو مٹانے کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں: (۱) تلبیہ کے کلمات کو کلی طور پر ترک کر دیا تھا، (۲) تلبیہ میں شرکیہ الفاظ داخل کر دیئے تھے، صحیح مسلم کی روایت کے مطابق وہ یوں تلبیہ کہتے تھے: ’’لَبَّیْکَ،لَا شَرِیْکَ لَکَ اِلَّا شَرِیْکًا تَمْلِکُہُ وَمَا مَلَکَ۔‘‘
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4230
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ۔ أخرجه النسائي في ’’الكبري‘‘: 2815، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1870 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1870»