حدیث نمبر: 4228
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَضْحَى يَوْمًا مُحْرِمًا مُلَبِّيًا حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ غَرَبَتْ بِذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی ایک دن احرام کی حالت میں تلبیہ پکارتا رہے، یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے، تو وہ اپنے گناہوں سے یوں پاک ہو گا جیسے وہ اس دن تھا، جس دن کو اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا۔

وضاحت:
فوائد: … اس باب سے صرف تلبیہ کے الفاظ کا پتہ چلا، مزید احکام کا بیان اگلے ابواب میں آ رہا ہے۔ تلبیہ کی فضیلت درج ذیل احادیث سے ثابت ہوتی ہے: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَا أَھَلَّ مُھِلٌّ قَطُّ إِلَّابُشِّرَ، وَلَا کَبَّرَ مُکَبِّرٌ قَطُّ إِلَّا بُشِّرَ۔)) قِیْلَ: بِالْجَنَّۃِ؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔)) … ’’نہیں ہے کوئی تلبیہ پڑھنے والا، جو تلبیہ پڑھے، مگر اس کوبشارت دی جاتی ہے اور نہیں ہے کوئی تکبیر کہنے والا، جو تکبیر کہے، مگر اس کو بھی خوشخبری سنائی جاتی ہے۔‘‘ کہا گیا: کیا جنت کی خوشخبری؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’جی ہاں۔‘‘ (معجم اوسط: ۷۹۴۳، صحیحہ:۱۶۲۱) سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَا مِنْ مُلَبٍّ یُلَبِّی اِلّا لَبّٰی مَا عَنْ یَمِیْنِہِ وَشِمَالِہِ، مِن حَجَرٍ اَوْ شَجَرٍ اَوْ مَدَرٍ، حَتّٰی تَنْقَطِعَ الْاَرْضُ مِنْ ھٰھُنٰا وَ ھٰھُنٰا۔)) … ’’ جب کوئی تلبیہ کہنے والا تلبیہ کہتا ہے تواس کے دائیں اور بائیں زمین کے آخری کناروں تک تمام پتھر، درخت اور کنکریاں سب لبیک پکارتے ہیں۔‘‘ (ابن ماجہ: ۲۹۲۱)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4228
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، عاصم بن عمر بن حفص وعاصم بن عبيد الله ضعيفان ۔أخرجه ابن ماجه: 2925، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15008 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15072»