حدیث نمبر: 4226
عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ جَمِيعًا، فَحَدَّثْتُ ابْنَ عُمَرَ بِذَلِكَ فَقَالَ: لَبَّى بِالْحَجِّ وَحْدَهُ، فَلَقِيتُ أَنَسًا فَحَدَّثْتُهُ بِقَوْلِ ابْنِ عُمَرَ، فَقَالَ: مَا تَعُدُّونَنَا إِلَّا صِبْيَانًا، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ بکر بن عبد اللہ مزنی کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سناکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج اور عمرہ کا اکٹھا تلبیہ پکارا تھا، پھر جب میں نے یہ بات سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کو بتلائی تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو صرف حج کا تلبیہ پکارا تھا، بعد میں جب سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کی بات کا ذکر کیا، انھوں نے کہا: دراصل تم لوگ ہمیں صرف بچے ہی سمجھتے ہو، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خود اس طرح تلبیہ کہتے ہوئے سنا تھا: ((لَبَّیْکَ عُمْرَۃً وَحَجًّا))(میں حاضر ہوں عمرہ کے لیے اور حج کے لیے)۔

وضاحت:
فوائد: … لَبَّیْکَ عُمْرَۃً وَحَجًّا، لَبَّیْکَ عُمْرَۃً اور لَبَّیْکَ َحَجًّا کے الفاظ ابتدائے احرام کے وقت کہہ کر ارادے کا اظہار کیا جاتا ہے، اس کے بعد دورانِ احرام بھی کہے جا سکتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمر اور سیدنا انس دونوں کی باتیں صحیح ہیں، دراصل سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کو سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی حدیث کا علم نہیں تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4226
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه : 1550، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24040 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11983»