الفتح الربانی
كتاب الحج والعمرة— حج اور عمرہ کے ابواب
بَابُ التَّلْبِيَةِ وَصِفَتِهَا وَأَحْكَامِهَا باب: تلبیہ اور اس کی کیفیت اور احکام کا بیان
حدیث نمبر: 4221
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ مُلَبِّدًا، يَقُولُ: ((لَبَّيْكَ، اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ))، لَا يَزِيدُ عَلَى هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احرام کی حالت میں بالوں کو بکھرنے سے بچانے کے لیے کوئی چیز لگائی ہوئی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان الفاظ کے ساتھ تلبیہ کہہ رہے تھے: ((لَبَّیْکَ، اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ، … )) (میں حاضر ہوں، اے اللہ ! میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، تمام تعریفیں اور نعمتیں تیرے لیے ہیں اور بادشاہت بھی تیرے لیے ہے، تیرا کوئی شریک نہیں)