حدیث نمبر: 4219
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَرَوْحٌ قَالَا حَدَّثَنَا قَالَ رَوْحٌ سَمِعْتُ مُسْلِمًا الْقُرِّيَّ، قَالَ مُحَمَّدٌ عَنْ مُسْلِمٍ الْقُرِّيِّ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْعُمْرَةِ وَأَهَلَّ أَصْحَابُهُ بِالْحَجِّ، قَالَ رَوْحٌ أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ بِالْحَجِّ فَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ أَحَلَّ وَكَانَ مِمَّنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ طَلْحَةُ وَرَجُلٌ آخَرُ فَأَحَلَّا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمرہ کا اور صحابہ نے حج کا احرام باندھا تھا ، روح کی روایت کے مطابق سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ نے حج کا احرام باندھا تھا، جن لوگوں کے ہمراہ قربانی کے جانور نہیں تھے، وہ عمرہ کرنے کے بعد حلال ہو گئے تھے یعنی انہوں نے احرام کھول دیا تھا، سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ اور ایک اور آدمی ان لوگوں میں سے تھے، جن کے پاس قربانی کے جانور نہیں تھے، اس لیے وہ بھی عمرہ کی ادائیگی کے بعد حلال ہو گئے۔

وضاحت:
فوائد: … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمرہ کا احرام باندھا، اس کا معنییہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمرہ کا تلبیہ بھی کہا تھا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سفر کی ابتدا حج کے احرام سے کی تھی۔ اس حدیث کے مطابق احرام میں یہ تبدیلی کی گئی تھی کہ جن لوگوں نے حج کا احرام باندھا تھا اور ان کے ہمراہ ہدی نہیں تھی، ان کو حکم دیا گیا کہ وہ عمرہ کر کے احرام کھول دیں اور حلال ہو جائیں۔ اس باب کی اور اس موضوع سے متعلقہ احادیث سے حج و عمرہ کو ایک دوسرے میں داخل کر لینے کی درج ذیل صورتیں ثابت ہوئیں: ۱۔ صرف حج کے تلبیے کے ساتھ میقات سے داخل ہو جانے والے کا اسی احرام میں عمرہ کو داخل کر لینا۔
۲۔ صرف عمرہ کے تلبیے کے ساتھ میقات سے داخل ہو جانے والے کا اسی احرام میں حج کو داخل کر لینا۔
۳۔ صرف حج کے تلبیے کے ساتھ میقات سے داخل ہو جانے والے کا اس احرام کو عمرہ میں تبدیل کر دینا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4219
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1239، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2141 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2141»