الفتح الربانی
كتاب الحج والعمرة— حج اور عمرہ کے ابواب
بَابُ جَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ وَالتَّحَلُّلِ بِالْإِحْصَارِ باب: حج کے مہینوں میں عمرہ کی ادائیگی کے جائز ہونے اور کسی رکاوٹ کی بنا پر احرام کھول دینے کا بیان
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَرَوْحٌ قَالَا حَدَّثَنَا قَالَ رَوْحٌ سَمِعْتُ مُسْلِمًا الْقُرِّيَّ، قَالَ مُحَمَّدٌ عَنْ مُسْلِمٍ الْقُرِّيِّ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْعُمْرَةِ وَأَهَلَّ أَصْحَابُهُ بِالْحَجِّ، قَالَ رَوْحٌ أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ بِالْحَجِّ فَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ أَحَلَّ وَكَانَ مِمَّنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ طَلْحَةُ وَرَجُلٌ آخَرُ فَأَحَلَّا۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمرہ کا اور صحابہ نے حج کا احرام باندھا تھا ، روح کی روایت کے مطابق سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ نے حج کا احرام باندھا تھا، جن لوگوں کے ہمراہ قربانی کے جانور نہیں تھے، وہ عمرہ کرنے کے بعد حلال ہو گئے تھے یعنی انہوں نے احرام کھول دیا تھا، سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ اور ایک اور آدمی ان لوگوں میں سے تھے، جن کے پاس قربانی کے جانور نہیں تھے، اس لیے وہ بھی عمرہ کی ادائیگی کے بعد حلال ہو گئے۔
۲۔ صرف عمرہ کے تلبیے کے ساتھ میقات سے داخل ہو جانے والے کا اسی احرام میں حج کو داخل کر لینا۔
۳۔ صرف حج کے تلبیے کے ساتھ میقات سے داخل ہو جانے والے کا اس احرام کو عمرہ میں تبدیل کر دینا۔