الفتح الربانی
كتاب الحج والعمرة— حج اور عمرہ کے ابواب
بَابُ جَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ وَالتَّحَلُّلِ بِالْإِحْصَارِ باب: حج کے مہینوں میں عمرہ کی ادائیگی کے جائز ہونے اور کسی رکاوٹ کی بنا پر احرام کھول دینے کا بیان
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ نَافِعٍ خَرَجَ ابْنُ عُمَرَ يُرِيدُ الْعُمْرَةَ فَأَخْبَرُوهُ أَنَّ بِمَكَّةَ أَمَرًا، فَقَالَ: أُهِلُّ بِالْعُمْرَةِ فَإِنْ حُبِسْتُ صَنَعْتُ كَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ، فَلَمَّا سَارَ قَلِيلًا وَهُوَ بِالْبَيْدَاءِ قَالَ: مَا سَبِيلُ الْعُمْرَةِ إِلَّا سَبِيلُ الْحَجِّ أُوجِبُ حَجًّا أَوْ قَالَ: أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجًّا، فَإِنَّ سَبِيلَ الْحَجِّ سَبِيلُ الْعُمْرَةِ، فَقَدِمَ مَكَّةَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعًا، وَقَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ، أَتَى قُدَيْدًا فَاشْتَرَى هَدْيًا فَسَاقَهُ۔ (دوسری سند) نافع کہتے ہیں: سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ عمرہ کے ارادہ سے روانہ ہوئے، جب انہیں بتایا گیا کہ اس دفعہ مکہ میں لڑائی کا خطرہ ہے تو انہوں نے کہا: میں عمرے کا احرام باندھ لیتا ہوں، اگر مجھے آگے جانے سے روک دیا گیا تو میں اسی طرح کروں گا، جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا تھا۔ چنانچہ انہوں نے عمرے کا احرام باندھ لیا اور ذوالحلیفہ سے تھوڑا آگے جا کر جب بیداء کے ٹیلہ پر پہنچے تو کہنے لگے: حج اور عمرہ کے احکام تو ایک جیسے ہیں، لہٰذا میں حج کا ارادہ کرتاہوں، یایوں کہا: میں تم لوگوں کو گواہ بناتا ہوں کہ میں حج کا ارادہ کرتا ہوں، کیونکہ حج اور عمرہ کے احکام و مسائل ایک جیسے ہیں، پس جب وہ مکہ پہنچے تو بیت اللہ کے گرد سات چکر اور صفا مروہ کی سعی کے بھی سات چکر لگائے اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا تھا، اس سفر میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ قدید کے مقام سے قربانی کا جانور خرید کر اسے اپنے ساتھ مکہ مکرمہ لے گئے تھے۔