حدیث نمبر: 4215
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُهِلَّ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ ثُمَّ لَا يَحِلُّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا))، قَالَتْ: فَقَدِمْتُ مَكَّةَ وَأَنَا حَائِضٌ وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَلَا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((انْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ وَدَعِي الْعُمْرَةَ))، قَالَتْ: فَفَعَلْتُ، فَلَمَّا قَضَيْنَا الْحَجَّ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ إِلَى التَّنْعِيمِ فَاعْتَمَرْتُ فَقَالَ: ((هَذِهِ مَكَانُ عُمْرَتِكِ))، قَالَتْ: فَطَافَ الَّذِينَ أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ أَحَلُّوا، ثُمَّ طَافُوا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًى لِحَجِّهِمْ، فَأَمَّا الَّذِينَ جَمَعُوا الْحَجَّ فَطَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں: ہم حجۃ الوداع کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، ہم نے عمرہ کا تلبیہ پکارا، بعد ازاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جن لوگوں کے ساتھ قربانی کا جانور ہے وہ حج اور عمرہ دونوں کا اکٹھا تلبیہ پکاریں، وہ ان دونوں سے اکٹھے حلال ہوں گے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں: جب میں مکہ پہنچی تو مجھے حیض آ گیا، لہٰذا میں بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی نہ کر سکی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بات کا شکوہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم سر کھول دو اورکنگھی کرکے حج کا احرام باندھ لو اور عمرے کو ترک کر دو۔ پس میں نے اسی طرح کیا، جب ہم حج سے فارغ ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے میرے بھائی عبد الرحمن کے ساتھ تنعیم کی طرف بھیجا، تاکہ میں عمرہ کر آؤں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تمہارے عمرے کا متبادل ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں: جن لوگوں نے عمرے کا احرام باندھا تھا، وہ بیت اللہ کا طواف اورصفا مروہ کی سعی کرکے حلال ہو گئے،اس کے بعد انہوں نے منیٰ سے آ کر حج کا طواف کیا اور جن لوگوں نے حج اور عمرہ کو جمع کیا تھا یعنی حج قران کیا تھا انہوں نے ایک ہی طواف کیا۔

وضاحت:
فوائد: … ’’ اور عمرے کو ترک کر دو‘‘ اس کا مفہوم یہ ہے کہ عمرہ کے افعال یعنی طواف، سعی اور تقصیر کو ترک کر دو اور حج قران کا تلبیہ شروع کر دو۔ اس کا یہ معنی نہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا حلال ہو جائیں اور پھر احرام باندھیں۔ ’’یہ تمہارے عمرے کا متبادل ہے۔‘‘ یعنی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دوسری امہات المؤمنین اور بعض صحابہ کی طرح حج تمتع کرتے ہوئے جو عمرہ الگ سے کرنا تھا، یہ عمرۂ تنعیم اس کا متبادل ہے، وگرنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حج قران میں ایک عمرہ کر لیا تھا۔ اس حدیث کے آخر سے واضح طور پر پتہ چل رہا ہے کہ حج قران کرنے والوں کو حج اور عمرہ دونوں کے لیے ایک ہی طواف کافی ہے، لیکن امام ابوحنیفہ ایسے حجاج کے لیے بھی دو طوافوں کے قائل ہیں، لیکنیہ قول مرجوح ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4215
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1556، 1638، 4395، ومسلم: 1211، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25441 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25955»