الفتح الربانی
كتاب الحج والعمرة— حج اور عمرہ کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّمَتُّعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ باب: حج تمتع کا بیان
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مُحْرِمِينَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُتِمَّ (وَفِي لَفْظٍ: فَلْيَقُمْ عَلَى إِحْرَامِهِ) وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحْلِلْ))، قَالَتْ: فَلَمْ يَكُنْ مَعِي هَدْيٌ فَحَلَلْتُ وَكَانَ مَعَ الزُّبَيْرِ زَوْجِهَا هَدْيٌ فَلَمْ يَحِلَّ، قَالَتْ: فَلَبِسْتُ ثِيَابِي وَحَلَلْتُ، فَجِئْتُ إِلَى الزُّبَيْرِ، فَقَالَ: قُومِي عَنِّي، قَالَتْ: فَقُلْتُ: أَتَخْشَى أَنْ أَثِبَ عَلَيْكَ۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ہم احرام باندھ کر سفر پر روانہ ہوئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جن لوگوں کے ہمراہ قربانی کا جانور ہے ،وہ احرام کی حالت میں رہیں گے اور جن کے ساتھ یہ جانور نہیں ہے، وہ عمرہ کرکے حلال ہو جائیں۔ اب میرے پاس قربانی کا جانور نہیں تھا، اس لیے میں حلال ہو گئی یعنی احرام کھول دیا، لیکن میرے شوہر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ قربانی کا جانور تھا، سو وہ حلال نہ ہوئے۔ میں نے احرام کھول کر عام کپڑے پہن لیے اور اپنے شوہر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے قریب چلی گئی، لیکن انھوں نے کہا: مجھ سے دور ہٹ جاؤ۔ میں نے کہا: کیا آپ اس سے ڈرتے ہیں کہ میں آپ پر کود پڑوں گی؟