حدیث نمبر: 4208
عَنْ يُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَرَادَ أَنْ يَنْهَى عَنْ مُتْعَةِ الْحَجِّ فَقَالَ لَهُ أُبَيُّ (بْنُ كَعْبٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: لَيْسَ ذَلِكَ لَكَ، قَدْ تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَنْهَنَا، فَأَضْرَبَ عَنْ ذَلِكَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَأَرَادَ أَنْ يَنْهَى عَنْ حُلَلِ الْحِبْرَةِ، لِأَنَّهَا تُصْبَغُ بِالْبَوْلِ، فَقَالَ لَهُ أُبَيٌّ: لَيْسَ ذَلِكَ لَكَ، قَدْ لَبِسَهُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَبِسْنَاهُنَّ فِي عَهْدِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ حسن سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حج تمتع سے منع کرنے کا ارادہ کیا تو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ حج تمتع سے منع نہیں کر سکتے، کیونکہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں یہ حج کیاہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اس سے نہیں روکا، لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی بات سے اعراض کیا اور اس کی طرف کوئی توجہ نہیں کی، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یمنی چادروں سے منع کرنا چاہا کیونکہ ان کو پیشاب کے ساتھ رنگا جاتا تھا، لیکن سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ اس سے بھی نہیں روک سکتے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی یہ پہنی تھیں اور آپ کے زمانہ میں ہم نے ان کو زیب ِ تن کیا تھا۔

وضاحت:
فوائد: … اگر واقعی وہ کپڑا پیشاب میں رنگا جاتا تھا تووہ اس وقت تک ناپاک رہے گا، جب تک اس پر پیشاب کے اثرات باقی رہیں گے، جب اس کے اثرات ختم ہو جائیں گے تو وہ پاک ہو جائے گا، ایسی صورت کپڑے کو جس رنگ میں رنگا جائے گا، وہ رنگ ناپاک نہیں ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4208
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «ھذا الحديث منقطع، لان الحسن البصري لم يلق عمر ولا ابيّا، لكن قد صحح نھي عمر عن متعة الحج، وأما الشطر الثاني فقد جاء من۔ طرق عن عمر۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21283 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21607»