الفتح الربانی
كتاب الحج والعمرة— حج اور عمرہ کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّمَتُّعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ باب: حج تمتع کا بیان
عَنْ يُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَرَادَ أَنْ يَنْهَى عَنْ مُتْعَةِ الْحَجِّ فَقَالَ لَهُ أُبَيُّ (بْنُ كَعْبٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: لَيْسَ ذَلِكَ لَكَ، قَدْ تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَنْهَنَا، فَأَضْرَبَ عَنْ ذَلِكَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَأَرَادَ أَنْ يَنْهَى عَنْ حُلَلِ الْحِبْرَةِ، لِأَنَّهَا تُصْبَغُ بِالْبَوْلِ، فَقَالَ لَهُ أُبَيٌّ: لَيْسَ ذَلِكَ لَكَ، قَدْ لَبِسَهُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَبِسْنَاهُنَّ فِي عَهْدِهِ۔ حسن سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حج تمتع سے منع کرنے کا ارادہ کیا تو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ حج تمتع سے منع نہیں کر سکتے، کیونکہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں یہ حج کیاہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اس سے نہیں روکا، لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی بات سے اعراض کیا اور اس کی طرف کوئی توجہ نہیں کی، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یمنی چادروں سے منع کرنا چاہا کیونکہ ان کو پیشاب کے ساتھ رنگا جاتا تھا، لیکن سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ اس سے بھی نہیں روک سکتے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی یہ پہنی تھیں اور آپ کے زمانہ میں ہم نے ان کو زیب ِ تن کیا تھا۔