حدیث نمبر: 4207
عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: إِنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَنْهَى عَنِ الْمُتْعَةِ وَإِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَأْمُرُ بِهَا، قَالَ: فَقَالَ لِي: عَلَى يَدَيَّ جَرَى الْحَدِيثُ، تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عَفَّانُ: وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ، فَلَمَّا وَلِيَ عُمَرُ خَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ: إِنَّ الْقُرْآنَ هُوَ الْقُرْآنُ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هُوَ الرَّسُولُ، وَإِنَّهُمَا كَانَتَا مُتْعَتَانِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِحْدَاهُمَا مُتْعَةُ الْحَجِّ وَالْأُخْرَى مُتْعَةُ النِّسَاءِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ابو نضرہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے کہاکہ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ حج تمتع سے منع کرتے ہیں اور سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اس کا حکم دیتے ہیں، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: حج سے متعلقہ یہ حدیث میرے ہاتھ پر گھومتی ہے، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور پھر سیدنا ابو بکر کے ساتھ حج تمتع کیا تھا، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے لوگوں کو خطبہ دیا اور کہا: بیشک قرآن قرآن ہے اور اللہ کے رسول بھی رسول ہیں، بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں متعہ کی دو قسمیں رائج تھیں، ایک حج والا متعہ اور دوسرا عورتوں والا۔

وضاحت:
فوائد: … ’’بیشک قرآن قرآن ہے اور اللہ کے رسول بھی رسول ہیں۔‘‘اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی کی کتاب ہر قسم کی تبدیلی سے محفوظ ہے اور واجب الاتباع ہے، اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات سنی جائے گی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم پر عمل کیا جائے گا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بولنے کا دارومدار بھی وحی پر ہے۔سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں دو قسم کے متعے جائز اور رائج تھے، اب ان کی ضرورت ختم ہو چکی ہے۔سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حج تمتع کیا تھا، لیکن جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے توا نھوں نے کہا: بیشک اللہ تعالی اپنے رسول کے لیے جو چاہتا ہے، حلال کر دیتا ہے اور بیشک قرآن مجید بھی اپنی منازل پر نازل ہوا، {وَأَتِمُّوْا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلّٰہِ} … ’’اور حج اور عمرے کو اللہ تعالی کے لیے پورا کرو۔‘‘ جیسے اللہ تعالی نے تم کو حکم دیا ہے، اور ان عورتوں کے اس نکاح کو ختم کر دو، جس نے کسی عورت کے ساتھ مقررہ مدت تک یہ نکاح کیا تو میں اس کو پتھروں سے رجم کر دوں گا۔ (صحیح مسلم)نکاح متعہ کی مزید وضاحت کتاب النکاح میں آئے گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4207
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1217، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 369 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 369»