الفتح الربانی
كتاب الحج والعمرة— حج اور عمرہ کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّمَتُّعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ باب: حج تمتع کا بیان
حدیث نمبر: 4205
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى (الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: هِيَ سُنَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي الْمُتْعَةَ، وَلَكِنِّي أَخْشَى أَنْ يُعْرِسُوا بِهِنَّ تَحْتَ الْأَرَاكِ ثُمَّ يَرُوحُوا بِهِنَّ حُجَّاجًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدناابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: حج تمتع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے، مگر اس بات کا اندیشہ ہے کہ یہ لوگ اَرَاک کے درختوں کے نیچے اپنی بیویوں سے ہم بستری کریں گے اور پھر حج کا احرام باندھ کر چل پڑیں گے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جو پابندی لگائی تھی، اس کی وجہ بیان کر دی، بہرحال یہ چیز سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو طبعی طور پر ناگوار گزرتی تھی، وگرنہ شرعی احکام کی روشنی میں جب میاں بیوی احرام کی حالت میں نہ ہوں تو وہ حق زوجیت ادا کر سکتے ہیں،یہ حج و عمرہ کے احرام سے پہلے ہو یا کسی اور وقت۔