الفتح الربانی
كتاب التوحيد— توحید کی کتاب
بابٌ فِيمَا جَاءَ فِي نَعِيمِ الْمُوَحِّدِينَ وَثَوَابِهِمْ وَوَعِيدِ الْمُشْرِكِينَ باب: توحیدوالوں کی نعمتوں اور ثواب اور شرک والوں کی وعید اور عذاب کا بیان
حدیث نمبر: 42
عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ: قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: خَصْلَتَانِ يَعْنِي إِحْدَاهُمَا سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالْأُخْرَى مِنْ نَفْسِي، ((مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَجْعَلُ لِلَّهِ نِدًّا دَخَلَ النَّارَ)) وَأَنَا أَقُولُ: مَنْ مَاتَ وَهُوَ لَا يَجْعَلُ لِلَّهِ نِدًّا وَلَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ.ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو وائل رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: دو باتیں ہیں، ایک بات تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے اور دوسری بات میری اپنی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بندہ اس حال میں مرے کہ وہ کسی کو اللہ تعالیٰ کا ہمسر ٹھہراتا ہو، وہ آگ میں داخل ہو گا۔“ اور میں خود کہتا ہوں: ”اور جو آدمی اس حال میں مرے کہ نہ وہ کسی کو اللہ تعالیٰ کا ہمسر ٹھہراتا ہو اور نہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک بناتا ہو، وہ جنت میں داخل ہو گا۔“