الفتح الربانی
كتاب الحج والعمرة— حج اور عمرہ کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّمَتُّعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ باب: حج تمتع کا بیان
عَنْ شُعْبَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جَمْرَةَ، الضُّبَعِيَّ قَالَ: تَمَتَّعْتُ فَنَهَانِي نَاسٌ عَنْ ذَلِكَ فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ فَأَمَرَنِي بِهَا، قَالَ: ثُمَّ انْطَلَقْتُ إِلَى الْبَيْتِ فَنِمْتُ فَأَتَانِي آتٍ فِي مَنَامِي فَقَالَ عُمْرَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ وَحَجٌّ مَبْرُورٌ، قَالَ: فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي رَأَيْتُ فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ فِي الْهَدْيِ: جَزُورٌ أَوْ بَقَرَةٌ أَوْ شَاةٌ أَوْ شِرْكٌ فِي دَمٍ۔ ابو جمرہ ضبعی کہتے تھے: میں نے حج تمتع کرنا چاہا لیکن لوگوں نے مجھے ایسا کرنے سے منع کردیا، پس میں سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گیا اور ان سے اس بارے میں پوچھا، انہوں نے مجھے حج تمتع کرنے کا حکم دیا، سو میں بیت اللہ کی طرف روانہ ہوا اور وہاں جا کر سو گیا،میں نے خواب میں دیکھا کہ کوئی میرے پاس آیا اور اس نے کہا: یہ تو عمرۂ مقبولہ اور حج مبرور ہے۔ میں نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو اپنا خواب بیان کیا، تو انہوں نے تعجب کرتے ہوئے بار بار کہا: اللّٰہُ أَکْبَرُ،اللّٰہُ أَکْبَرُ یہ عمل تو ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے، پھر سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے ہدی کے بارے میں کہاکہ وہ ایک اونٹ یا ایک گائے یا ایک بکری یا بھیڑ ہو سکتی ہے یا ایک جانور میں حصہ بھی ڈالا جا سکتا ہے۔