حدیث نمبر: 4198
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: نَزَلَتْ آيَةُ الْمُتْعَةِ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَعَمِلْنَا بِهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَنْزِلْ آيَةٌ تَنْسَخُهَا، وَلَمْ يَنْهَ عَنْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مَاتَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عمران بن حنین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حج تمتع کی آیت قرآن کریم میں نازل ہوئی اور ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں اس پر عمل کیا، اب اس کے بعد تو کوئی ایسی آیت نازل نہیں ہوئی جس نے اس حکم کو منسوخ کر دیا ہو اور نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دنیا سے رخصت ہونے تک اس سے منع کیا۔

وضاحت:
فوائد: … حج تمتع کی آیت سے مراد قرآن مجید کے یہ الفاظ ہیں:{فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَۃِ اِلَی الْحَجِّ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْھَدْیِ} … ’’(پس جب تم امن کی حالت میں ہو جاؤ تو) جو شخص عمرے سے لے کر حج تک تمتع کر لے۔‘‘ (سورۂ بقرہ: ۱۹۶)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4198
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4518، ومسلم: 1226، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19907 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20149»