حدیث نمبر: 4195
عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ بَكْرٍ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ إِنَّ أَنَسًا أَخْبَرَنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجٍّ))، قَالَ: وَهِلَ أَنَسٌ، خَرَجَ فَلَبَّى بِالْحَجِّ وَلَبَّيْنَا مَعَهُ، فَلَمَّا قَدِمَ أَمَرَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ الْهَدْيُ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً، قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَنَسٍ، فَقَالَ: مَا تَعُدُّونَا إِلَّا صِبْيَانًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ بکر کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے ہمیں بتلایا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں تلبیہ پڑھا تھا: لَبَّیْکَ بِعُمْرَۃٍ وَحَجٍّ (میں عمرہ اور حج دونوں کے لئے حاضر ہوں)یہ سن کر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: سیدنا انس رضی اللہ عنہ بھول گئے ہیں، بات یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب روانہ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج کا تلبیہ پڑھا اور ہم نے بھی حج کا تلبیہ پڑھا، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جن لوگوں کے ہمراہ قربانی کے جانور نہیں ہیں، وہ عمرہ کے بعد احرام کھول دیں۔ بکر کہتے ہیں: جب میں نے یہ بات سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو بتائی تو وہ کہنے لگے: اصل میں تم ہمیں بچے سمجھتے ہو، (اس لیے ہماری باتوں پر اعتماد نہیں کرتے)۔

وضاحت:
فوائد: … صحیح بات یہ ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی بات کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احرام کی ابتدائی حالت پر محمول کیا جائے اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی بات کو احرام کی آخری اور درمیانی حالت پر محمول کیا جائے، جو صورت سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کر رہے ہیں، اس کا سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کو علم نہیں تھا، جس کا سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بڑا معقول جواب دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4195
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1232، وأخرج بنحوه البخاري: 4353، 4354، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5147 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5147»