حدیث نمبر: 4193
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: كُنَّا نَسِيرُ مَعَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَإِذَا رَجُلٌ يُلَبِّي بِهِمَا جَمِيعًا، فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مَنْ هَذَا؟ فَقَالُوا عَلِيٌّ فَقَالَ: أَلَمْ تَعْلَمْ أَنِّي نَهَيْتُ عَنْ هَذَا؟ قَالَ: بَلَى، وَلَكِنْ لَمْ أَكُنْ لِأَدَعَ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِقَوْلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند) مروان کہتے ہیں: ہم سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ جا رہے تھے کہ ایک آدمی حج اور عمرہ دونوں کا اکٹھا تلبیہ پڑھ رہا تھا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے بتلایا کہ یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہیں، تو انھوں نے کہا: کیا تم جانتے نہیں کہ میں نے اس عمل سے روکا ہوا ہے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: جی بالکل جانتا ہوں، لیکن میں تمہارے قول کی بنیاد پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد کو نہیں چھوڑ سکتا۔

وضاحت:
فوائد: … ہم پہلے یہ گزارش کر چکے ہیں کہ جن خلفاء نے حج کے ساتھ عمرہ کرنے سے منع کیا تھا، اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ یہ چاہتے تھے کہ لوگ حج کے لیے علیحدہ سفر کریں اور عمرے کے لیے علیحدہ، تاکہ وہ زیادہ اجر و ثواب کے مستحق ٹھہریں، جیسا کہ اگلی حدیث سے معلوم ہو رہا ہے، جبکہ ان کو علم تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس موسم میں عمرہ کرنے کا حکم بھی دیا تھا، سنن نسائی کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے حج کے ساتھ عمرہ کرنے سے منع کیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے عمرہ کا تلبیہ کہا، لیکن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کو منع نہ کیا، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ تمتع کرتے نہیں سنا تھا؟ انھوں نے کہا: جی کیوں نہیں۔
اگلی حدیث اس معاملے میں زیادہ واضح ہے، جس کے مطابق سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اپنے اس حکم کو اپنی ذاتی رائے کا نتیجہ سمجھ رہے ہیں، جو چاہے اس کو اپنا لے اور جو چاہے اس کو ترک کر دے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4193
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 733»