الفتح الربانی
كتاب الحج والعمرة— حج اور عمرہ کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّمَتُّعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ باب: حج تمتع کا بیان
عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ قَالَ: شَهِدْتُ عَلِيًّا وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ، وَعُثْمَانُ يَنْهَى عَنِ الْمُتْعَةِ، وَأَنْ يُجْمَعَ بَيْنَهُمَا، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَهَلَّ بِهِمَا فَقَالَ: لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجٍّ مَعًا، فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: تَرَانِي أَنْهَى النَّاسَ عَنْهُ وَأَنْتَ تَفْعَلُهُ؟ قَالَ: لَمْ أَكُنْ أَدَعُ سُنَّةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِقَوْلِ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ۔ مروان بن حکم کہتے ہیں: میں سیدنا علی اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما کے ساتھ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان حاضرہوا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ حج تمتع سے اور حج اور عمرے کو ایک احرام میں جمع کرنے سے منع کر رہے تھے۔ لیکن جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھا تو انہوں نے ان دونوں کا اکٹھا تلبیہ پڑھا اور یوں کہا: لَبَّیْکَ بِعُمْرَۃٍ وَحَجٍّ مَعًا (میں حج اور عمرہ کا اکٹھا احرام باندھتا ہوں)، یہ سن کر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: تم دیکھ رہے ہو کہ میں لوگوں کو ایسا کرنے سے روک رہا ہوں اور تم پھر وہی کام کر رہے ہو؟سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جواباً کہا: میں کسی آدمی کے قول کی بنیاد پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت چھوڑنے والا نہیں ہوں۔