الفتح الربانی
كتاب الحج والعمرة— حج اور عمرہ کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّمَتُّعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ باب: حج تمتع کا بیان
حدیث نمبر: 4191
عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْعَقِيقِ، يَقُولُ: ((أَتَانِيَ اللَّيْلَةَ آتٍ مِنْ رَبِّي، فَقَالَ: صَلِّ فِي هَذَا الْوَادِي الْمُبَارَكِ وَقُلْ عُمْرَةٌ فِي حَجَّةٍ))، قَالَ الْوَلِيدُ، يَعْنِي ذَا الْحُلَيْفَةِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے وادیٔ عقیق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: آج رات میرے ربّ کی طرف سے ایک آنے والے (فرشتے یعنی جبریل علیہ السلام ) نے آ کر کہا: آپ اس مبارک وادی میں نماز ادا کریں اور یوں کہیں کہ یہ عمرہ حج کے ساتھ ہی ہے۔ ‘ ولید راوی کہتے ہیں: وادی سے مراد ذوالحلیفہ ہے۔
وضاحت:
فوائد: … وادیٔ عقیق سے مراد ذوالحلیفہ ہے، جو کہ اہل مدینہ کی میقات ہے، برکت کی وجوہات کا علم اللہ تعالی کو ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اس وادی جو نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا، اس سے مراد نماز فجر ہے۔