الفتح الربانی
كتاب الحج والعمرة— حج اور عمرہ کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّمَتُّعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ باب: حج تمتع کا بیان
حدیث نمبر: 4190
عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ))، قَالَ: وَقَرَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت تک عمرہ حج میں داخل ہو گیاہے۔ نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود حجۃ الوداع کے موقع پر ان دونوں کو ایک احرام میں جمع کیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کے دو معانی ہو سکتے ہیں: (۱) حج کے مہینوں میں عمرہ ادا کیا جا سکتا ہے، جبکہ اس سے پہلے دورِ جاہلیت میں اس چیز کو بہت بڑا گناہ سمجھا جاتا تھا۔ (۲) حج قران کرنا، جس میں حج کے افعال میں عمرہ داخل ہو جاتا ہے اور ایک طواف اور ایک سعی حج اور عمرہ دونوں کی طرف سے کفایت کر جاتے ہیں۔