الفتح الربانی
كتاب الحج والعمرة— حج اور عمرہ کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّمَتُّعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ باب: حج تمتع کا بیان
عَنِ الْحَكَمِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ أَنَّ الصُّبَيَّ بْنَ مَعْبَدٍ كَانَ نَصْرَانِيًّا تَغْلِبِيًّا أَعْرَابِيًّا (وَفِي رِوَايَةٍ: أَنَّ رَجُلًا كَانَ نَصْرَانِيًّا يُقَالُ لَهُ الصُّبَيُّ بْنُ مَعْبَدٍ) فَأَسْلَمَ فَسَأَلَ: أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ فَقِيلَ لَهُ: الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَأَرَادَ أَنْ يُجَاهِدَ، فَقِيلَ لَهُ: حَجَجْتَ؟ فَقَالَ: لَا، فَقِيلَ: حُجَّ وَاعْتَمِرْ ثُمَّ جَاهِدْ، فَانْطَلَقَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْحَوَابِطِ، أَهَلَّ بِهِمَا جَمِيعًا، فَرَآهُ زَيْدُ بْنُ صَوْحَانَ وَسَلْمَانُ بْنُ رَبِيعَةَ فَقَالَا: لَهُوَ أَضَلُّ مِنْ جَمَلِهِ أَوْ مَا هُوَ بِأَهْدَى مِنْ نَاقَتِهِ، فَانْطَلَقَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَخْبَرَهُ بِقَوْلِهِمَا فَقَالَ: هُدِيتَ لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ الْحَكَمُ: فَقُلْتُ لِأَبِي وَائِلٍ: حَدَّثَكَ الصُّبَيُّ؟ فَقَالَ: نَعَمْ۔ سیدنا ابو وائل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: صبی بن معبد بنو تغلب کا ایک بدّو آدمی تھا، وہ مذہباً عیسائی تھا، پھر اس نے اسلام قبول کر لیا، اس کے بعد اس نے پوچھا: کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ اسے بتلایا گیا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا، جب اس نے جہاد کا ارادہ کیا تو اس سے پوچھا گیا: کیا تم نے حج کیا ہے؟ اس نے بتلایا: جی نہیں۔ اس سے کہا گیا: تم پہلے حج اور عمرہ کر لو، پھر جہاد کرنا، پس وہ اس مقصد کے لیے روانہ ہوگیا اور جب وہ حوابط مقام پر پہنچا تو اس نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا،،زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ نے اسے اس طرح دیکھ کر کہا: یہ تو اپنے اونٹ سے بھی زیادہ گمراہ ہے، یایہ تو اپنی اونٹنی سے زیادہ ہدایت والا نہیں،یہ سن کر وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان دونوں کی بات کا ان سے ذکر کیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت پر عمل کرنے کی توفیق ملی ہے۔حکم کہتے ہیں: میں نے ابووائل سے پوچھا: کیا صبی نے تم کو یہ حدیث بیان کی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔