حدیث نمبر: 4187
عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ قَالَ: سَمِعْتُ مُطَرِّفًا قَالَ: قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنِّي أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا عَسَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَنْفَعَكَ بِهِ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ جَمَعَ بَيْنَ حَجٍّ وَعُمْرَةٍ ثُمَّ لَمْ يَنْهَ عَنْهُ حَتَّى مَاتَ وَلَمْ يَنْزِلْ قُرْآنٌ فِيهِ يُحَرِّمُهُ، وَإِنَّهُ كَانَ يُسَلَّمُ عَلَيَّ فَلَمَّا اكْتَوَيْتُ أُمْسِكَ عَنِّي، فَلَمَّا تَرَكْتُهُ عَادَ إِلَيَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ مطرف کہتے ہیں:سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے مجھے کہا: میں تمہیں ایک حدیث بیان کرتا ہوں، امید ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اس سے نفع پہنچائے گا، بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج اور عمرہ کو جمع کر کے ادا کیا تھا،پھر نہ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دنیا سے رخصت ہونے تک اس سے منع فرمایا اور نہ کوئی قرآن مجید کا ایسا حصہ نازل ہوا، جس نے اسے حرام کر دیا ہو۔ نیز میں عمران کہتا ہوں: اللہ کے فرشتے مجھے سلام کہا کرتے تھے، لیکن جب میں نے (بواسیر کے زخم کا علاج کرنے کے لیے اس کو) داغا تو انھوں نے سلام کہنا بند کر دیا، پھر جب میں نے داغنے کا یہ عمل ترک کر دیا تو وہ مجھے دوبارہ سلام کہنے لگ گئے۔

وضاحت:
فوائد: … زخم کو داغنا جائز ہے، لیکن مکروہ ہے، کیونکہیہ توکل اور ایمان کے اعلی درجے کے منافی ہے، اسی کراہت کی بنا پر فرشتوں نے سلام کا سلسلہ منقطع کر دیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4187
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1226، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19833 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20071»