الفتح الربانی
كتاب الحج والعمرة— حج اور عمرہ کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّمَتُّعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ باب: حج تمتع کا بیان
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَتَيْنَا ذَا الْحُلَيْفَةِ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَجْمَعَ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، فَمَنْ أَرَادَ ذَلِكَ فَلْيَقُلْ كَمَا أَقُولُ، ثُمَّ لَبَّى قَالَ: لَبَّيْكَ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ مَعًا، قَالَ: وَقَالَ سَالِمٌ وَقَدْ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: وَاللَّهِ إِنَّ رِجْلِي لَتَمَسُّ رِجْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّهُ لَيُهِلُّ بِهِمَا جَمِيعًا۔ سالم بن ابی الجعد کہتے ہیں: ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی معیّت میں حج کے لیے روانہ ہوئے، جب ذوالحلیفہ کے مقام پر پہنچے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تو حج اور عمرہ کو اکٹھا ادا کرنا چاہتا ہوں، لہٰذا جو آدمی اس طرح کرنا چاہتا ہو، وہ اسی طرح کہے جیسے میں کہوں، پھر انہوں نے یوں تلبیہ پڑھا: لَبَّیْکَ بِحَجٍّ وَعُمْرَۃٍ مَعًا (میں حاضر ہوں، حج اور عمرے دونوں کے ساتھ)۔ سالم کہتے ہیں کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتلائی: اللہ کی قسم! دورانِ سفر میری ٹانگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ٹانگ کو لگ رہی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حج اور عمرہ دونوں کا اکٹھا تلبیہ پڑھ رہے تھے۔