الفتح الربانی
كتاب الحج والعمرة— حج اور عمرہ کے ابواب
بَابُ التَّخْيِيرِ فِي الْإِحْرَامِ بَيْنَ التَّمَتُّعِ وَالْإِفْرَادِ وَالْقِرَانِ باب: حج تمتع، حج افراد اور حج قران میں سے کوئی ایک ادا کر لینے کا اختیار دینے کا بیان
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ: أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُوَافِينَ لِهِلَالِ ذِي الْحِجَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُهِلَّ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُهِلَّ بِحَجَّةٍ فَلْيُهِلَّ فَلَوْلَا أَنِّي أَهْدَيْتُ لَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ))، قَالَتْ: فَمِنْهُمْ مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَمِنْهُمْ مَنْ أَهَلَّ بِحَجَّةٍ، وَكُنْتُ مِمَّنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، فَحِضْتُ قَبْلَ أَنْ أَدْخُلَ مَكَّةَ فَأَدْرَكَنِي يَوْمُ عَرَفَةَ وَأَنَا حَائِضٌ فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((دَعِي عُمْرَتَكِ وَانْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ))، فَفَعَلْتُ، فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ، أَرْسَلَ مَعِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ إِلَى التَّنْعِيمِ، فَأَرْدَفَهَا فَأَهَلَّتْ بِعُمْرَةٍ مَكَانَ عُمْرَتِهَا، فَقَضَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَجَّهَا وَعُمْرَتَهَا وَلَمْ يَكُنْ فِي شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ هَدْيٌ وَلَا صَوْمٌ، وَلَا صَدَقَةٌ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ذوالحجہ کا چاند طلوع ہونے والا تھا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں حج کے لئے روانہ ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی عمرہ کرنا چاہتا ہو، وہ عمرہ کا احرام باندھ لے اور جو آدمی حج کا احرام باندھنا چاہتا ہو وہ حج کا احرام باندھ لے، رہا مسئلہ میرا تو اگر میں قربانی کا جانور ہمراہ نہ لایا ہوتا تو میں بھی صرف عمرہ کا احرام باندھتا۔ سیدہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: چنانچہ بعض صحابہ نے عمرے کا اور بعض نے حج کا احرام باندھا،میں نے بھی عمرے کا احرام باندھا تھا، لیکن ہوا یوں کہ مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے پہلے مجھے حیض آ گیا اور اسی حالت میں عرفہ کا دن آنے والا ہو گیا، میں نے اس بات کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شکوہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم عمرے کو چھوڑ دو، اپنا سر کھول کر کنگھی کرو اورحج کا احرام باندھ لو۔ چنانچہ میں نے اسی طرح کیا،جب وادیٔ محصب والی رات تھی، توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے بھائی عبد الرحمن کو میرے ہمراہ تنعیم کی طرف بھیجا، انہوں نے مجھے اپنے پیچھے سوار کر لیا، میں نے عمرے کا احرام باندھا، یہ عمرہ دراصل پہلے والے عمرے کے عوض میں تھا، اس طرح اللہ تعالی نے میرا حج اور عمرہ دونوں کرا دیئے، جبکہ اس صورت میں نہ تو ہدی تھی، نہ روزہ اور نہ صدقہ۔