الفتح الربانی
كتاب الحج والعمرة— حج اور عمرہ کے ابواب
بَابُ مَنْ أَحْرَمَ مُطْلَقًا أَوْ قَالَ أَحْرَمْتُ بِمَا أَحْرَمَ بِهِ فُلَانٌ باب: مطلق طور پر احرام باندھنے والے یا اس شخص کا بیان جو یہ کہے:¤میں نے وہ احرام باندھا جو فلاں نے باندھا
حدیث نمبر: 4176
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: ((بِمَ أَهْلَلْتَ؟)) قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أُهِلُّ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُكَ، قَالَ: ((وَمَعِي الْهَدْيُ))، قَالَ: ((فَلَا تَحِلَّ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: تم نے تلبیہ کس طرح پڑھا تھا؟ انہوں نے کہا: میں نے کہا تھا: اے اللہ! میں وہی احرام باندھ رہا ہوں، جو تیرے رسول نے باندھا ہے۔ پھر انھوں نے کہا: میرے پاس ہَدِی کا جانور بھی ہے، آ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تم حلال نہیں ہو سکتے۔
وضاحت:
فوائد: … چونکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس ہدی تھی، اس لیے وہ حلال نہ ہو سکے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طریقۂ حج کے سارے احکام ان پر لاگو ہو گئے، جبکہ سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس ہدی کا جانور نہیں تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ وہ عمرہ کر کے حلال ہو جائیں اور آٹھ ذوالحجہ کو از سرِ نو حج کا احرام باندھیں گے، اس طرح وہ حج تمتع ادا کریں گے۔ ان احادیث سے معلوم ہوا کہ تلبیہ کو معلق طور پر بھی ذکر کیا جا سکتا ہے، پھر اگر وہ محرِم متعلقہ آدمی کے احکام پر پورا نہ اترتا ہو تو وہ شریعت کے دوسرے احکام کے مطابق تبدیلی کر لے گا، جیسے جب سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احرام کا مصداق نہیں بن سکتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ وہ اس احرام میں عمرہ ادا کر کے حلال ہو جائیں۔