الفتح الربانی
كتاب الحج والعمرة— حج اور عمرہ کے ابواب
بَابُ الِاشْتِرَاطِ فِي الْإِحْرَامِ باب: احرام میں شرط لگانے کا بیان
حدیث نمبر: 4174
عَنْ سَالِمِ (بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ) عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ الِاشْتِرَاطَ فِي الْحَجِّ وَيَقُولُ: أَمَا حَسْبُكُمْ بِسُنَّةِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَمْ يَشْتَرِطْترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سالم بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ حج میں شرط لگانے کو پسند نہیں کرتے تھے اوروہ کہا کرتے تھے: کیا تمہارے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کافی نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی شرط نہیں لگائی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب کی پہلی پانچ احادیث سے معلوم ہوا کہ احرام کے دوران کسی مانع یا رکاوٹ کے خدشہ کے پیش نظر احرام سے حلال ہونے کی شرط لگا لینا جائز ہے، سیدنا عمر، سیدنا عثمان، سیدنا علی، سیدنا ابن مسعود، سیدنا جابر، سیدنا عبد اللہ بن عباس، سیدنا عمار، سیدہ عائشہ، سیدہ ام سلمہ اور سیدہ ضباعہ بنت زبیر کا یہی موقف تھا، نیز بہت سارے تابعین اور امام احمدبھی اسی نظریے کے قائل تھے، البتہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور امام ابو حنیفہ اور امام مالک کی رائے یہ تھی کہ اس قسم کی شرط لگانا درست نہیں ہے، لیکنیہ رائے مرجوح ہے۔ جب حج وعمرہ کرنے والے شخص کو کسی بیمارییا طوفان یا سیلابیا دشمن یا کسی اور وجہ سے اس طرح روک دیا جائے کہ اس سے حج و عمرہ فوت ہو جائے تو ان تمام صورتوں کو احصار اور ایسے شخص کو مُحْصَر کہتے ہیں۔ ایسا شخص اسی مقام اپنا سر منڈوائے اور قربانی کرے اور احرام کھول کر حلال ہو جائے۔ لیکن اگر کوئی آدمی اس باب کی احادیث کے مطابق مشروط احرام باندھتا ہے اور پھر واقعی کوئی رکاوٹ پیش آ جاتی ہے تو مُحْصَر کی طرح اس پر قربانی وغیرہ لازم نہیں ہو گی۔