الفتح الربانی
كتاب الحج والعمرة— حج اور عمرہ کے ابواب
بَابُ الِاشْتِرَاطِ فِي الْإِحْرَامِ باب: احرام میں شرط لگانے کا بیان
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ضُبَاعَةَ بِنْتَ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَهِيَ شَاكِيَةٌ، فَقَالَ: ((أَلَا تَخْرُجِينَ مَعَنَا فِي سَفَرِنَا هَذَا؟)) وَهُوَ يُرِيدُ حَجَّةَ الْوَدَاعِ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي شَاكِيَةٌ، وَأَخْشَى أَنْ تَحْبِسَنِي شَكْوَايَ، قَالَ: ((فَأَهِلِّي بِالْحَجِّ وَقُولِي اللَّهُمَّ مَحِلِّي حَيْثُ تَحْبِسُنِي))۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ سیدہ ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے، جبکہ وہ بیمار تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: کیا تم اس سفر میں ہمارے ساتھ نہیں چلو گی؟ جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارادہ حجۃ الوداع کا تھا،سیدہ ضباعہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول!میں تو بیمار ہوں اور مجھے یہ خطرہ ہے کہ میری بیماری مجھے روک دے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم حج کا احرام باندھ لو اور یوں کہو: اے اللہ! تو مجھے جہاں روک دے گا، وہی میرے حلال ہونے کی جگہ ہو گی۔