حدیث نمبر: 4166
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَتْ عَائِشَةُ تَقُولُ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَذْكُرُ إِلَّا الْحَجَّ، فَلَمَّا قَدِمْنَا سَرِفَ، طَمِثْتُ فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ: ((مَا يُبْكِيكِ؟)) قُلْتُ: وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَخْرُجِ الْعَامَ، قَالَ: ((لَعَلَّكِ نَفِسْتِ، يَعْنِي حِضْتِ؟)) قَالَتْ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ((إِنَّ هَذَا شَيْءٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ، فَافْعَلِي مَا يَفْعَلُ الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ حَتَّى تَطْهُرِي … )) الْحَدِيثَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ قاسم بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہا کرتی تھیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، ہمارا ارادہ صرف حج کا تھا، جب ہم سرف مقام پر پہنچے تو مجھے حیض آ گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں رو رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیوں رو رہی ہو؟ میں نے کہا: کاش کہ میں اس سال حج کے لئے نہ آئی ہوتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شاید تمہیں حیض آ گیا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اس چیز کو بناتِ آدم پر مقرر کیا ہے، اب تم وہ تمام امور سر انجام دو جو دوسرے حجا ج کریں گے، البتہ بیت اللہ کا طواف اس وقت تک نہ کرو، جب تک پاک نہ ہو جاؤ، … ۔ الحدیث

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4166
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 305، ومسلم: 1211، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26344 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26875»