حدیث نمبر: 414
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْلَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ لَهُ: إِنَّا نَغْزُو فَنُؤْتَى بِالْإِهَابِ وَالْأَسْقِيَةِ، قَالَ: مَا أَدْرِي مَا أَقُولُ لَكَ إِلَّا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((أَيُّمَا إِهَابٍ دُبِغَ فَقَدْ طَهُرَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

عبدالرحمن بن وہلہ رحمہ اللہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: ”بیشک جب ہم جہاد کرتے ہیں تو ہمارے پاس چمڑے اور مشکیزے لائے جاتے ہیں،“ انہوں نے آگے سے کہا: ”مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ میں تجھ سے کیا کہوں، البتہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جو چمڑا بھی رنگا جائے، پس تحقیق وہ پاک ہو جاتا ہے۔“

وضاحت:
فوائد: … رنگنے سے پہلے چمڑے کو اِھَاب اور رنگنے کے بعد شَنّ اور قِرْبَۃ کہتے ہیں۔
امام ابو داؤد نے نضر بن شمیل کے حوالہ سے یہ بات نقل کی ہے لیکن اہل لغت کے ہاں یہ معروف نہیں۔ بلکہ ان کے ہاں معروف یہ ہے کہ شن بوسیدہ مشک کو اور قربہ عام مشک کو کہتے ہیں۔ (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطهارة / حدیث: 414
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 366، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2435 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2435»