حدیث نمبر: 4127
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا، وَصَلَّى الْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ، وَبَاتَ بِهَا حَتَّى أَصْبَحَ، فَلَمَّا صَلَّى الصُّبْحَ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ فَلَمَّا انْبَعَثَتْ بِهِ سَبَّحَ وَكَبَّرَ حَتَّى اسْتَوَتْ بِهِ الْبَيْدَاءُ، ثُمَّ جَمَعَ بَيْنَهُمَا، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ أَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحِلُّوا فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ أَهَلُّوا بِالْحَجِّ وَنَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ بَدَنَاتٍ، بِيَدِهِ قِيَامًا وَضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ بِكَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ میں نمازِ ظہر کی چار اور ذوالحلیفہ میں پہنچ کر نمازِ عصر کی دو رکعتیں ادا کیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہیں رات بسر کی اورنمازِ فجر کے بعد سواری پر سوار ہو گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سواری آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لے کر اٹھ کھڑی ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کی تسبیح و تکبیر بیان کی، پھر جب سواری بیداء پر بلند ہوئی توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج اور عمرہ دونوں کا تلبیہ پکارا۔ پھر جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو حلال ہونے کا یعنی احرام کھول دینے کا حکم دیا۔ جب ذوالحجہ کی آٹھ تاریخ ہوئی تو لوگوں نے حج کا احرام باندھا اور تلبیہ پڑھا، اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سات اونٹوں کو نحر کیا، جبکہ وہ کھڑے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ میں دو سینگ دار سفید مینڈھے بطور قربانی ذبح کئے۔

وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تریسٹھ اونٹ اپنے ہاتھ سے ذبح کیے تھے، ممکن ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صرف سات اونٹ ذبح کرتے ہوئے دیکھا ہو، آخری جملے میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مدینہ منورہ کا عمل بیان کر رہے ہیں۔ صحیح بخاری کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((ثُمَّّ بَاتَ حَتّٰی اَصْبَحَ، فَصَلّٰی الصُّبْحَ، ثُمَّ رَکِبَ رَاحِلَتَہٗ …)) … پھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ذوالحلیفہ میں رات گزاری،یہاں تک کہ صبح ہو گئی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ فجر ادا کی اور پھر (حج و عمرہ کے لیے) اپنی سواری پر سوار ہو گئے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4127
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1551، 1712، 1714 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13831 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13867»