الفتح الربانی
كتاب الحج والعمرة— حج اور عمرہ کے ابواب
فصل منه فيما جاء فى العمرة فى رجب باب: ماہِ رجب میں عمرہ کرنے کا بیان
عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ الْمَسْجِدَ فَإِذَا نَحْنُ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَجَالَسْنَاهُ فَقَالَ: فَإِذَا رِجَالٌ يُصَلُّونَ الضُّحَى فَقُلْنَا: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ؟ فَقَالَ: بِدْعَةٌ فَقُلْنَا لَهُ: كَمِ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: أَرْبَعًا إِحْدَاهُنَّ فِي رَجَبٍ قَالَ: فَاسْتَحْيَيْنَا أَنْ نَرُدَّ عَلَيْهِ قَالَ: فَسَمِعْنَا اسْتِنَانَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ فَقَالَ لَهَا عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ! أَلَا تَسْمَعِي مَا يَقُولُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ يَقُولُ: اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعًا إِحْدَاهُنَّ فِي رَجَبٍ، فَقَالَتْ: يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَمَا إِنَّهُ لَمْ يَعْتَمِرْ عُمْرَةً إِلَّا وَهُوَ شَاهِدُهَا، وَمَا اعْتَمَرَ شَيْئًا فِي رَجَبٍمجاہد کہتے ہیں: میں اور عروہ بن زبیر مسجد میں داخل ہوئے، وہاں سید نا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بھی تشریف فرما تھے، ہم ان کے ساتھ بیٹھ گئے ، وہاں کچھ لوگ چاشت کی نماز پڑھ رہے تھے، ہم نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! یہ کون سی نماز ہے؟ انھوں نے کہا: یہ بدعت ہے۔ ہم نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے کیے؟ انھوں نے کہا: چار اور ان میں سے ایک رجب میں تھا۔ یہ سن کر ہم اس سے شرما گئے کہ ان کی غلطی کی نشاندہی کر سکیں، اتنے میں ہم نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے مسواک کرنے کی آواز سنی، عروہ بن زبیر نے ان سے کہا: ام المؤمنین! کیا آپ سن نہیں رہیں کہ ابو عبد الرحمن کیا کہہ رہے ہیں، وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کیے اور ان میں سے ایک رجب میں تھا۔ یہ سن کر سیدہ نے کہا: اللہ ابو عبد الرحمن پر رحم کرے، آپ ﷺ نے جو بھی عمرہ کیا، وہ اس موقع پر حاضر ہوتے تھے، بہر حال آپ ﷺ نے رجب میں کوئی عمرہ نہیں کیا۔