الفتح الربانی
كتاب الطهارة— طہارت کے ابواب
بَابٌ فِي تَطْهِيرِ الْأَرْضِ مِنْ نَجَاسَةِ الْبَوْلِ باب: زمین کو پیشاب کی نجاست سے پاک کرنے کا بیان
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) دَخَلَ أَعْرَابِيٌّ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فَقَالَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَلِمُحَمَّدٍ وَلَا تَغْفِرْ لِأَحَدٍ مَعَنَا، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: ((لَقَدِ احْتَظَرْتَ وَاسِعًا)) ثُمَّ وَلَّى حَتَّى إِذَا كَانَ فِي نَاحِيةِ الْمَسْجِدِ فَشَجَّ يَبُولُ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((إِنَّمَا بُنِي هَذَا الْبَيْتُ لِذِكْرِ اللَّهِ وَالصَّلَاةِ وَإِنَّهُ لَا يُبَالُ فِيهِ))، ثُمَّ دَعَا بِسَجْلٍ مِنْ مَاءٍ فَأَفْرَغَهُ عَلَيْهِ، قَالَ: يَقُولُ الْأَعْرَابِيُّ بَعْدَ أَنْ فَقِهَ: فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ، بِأَبِي هُوَ وَأُمِّي فَلَمْ يَسُبَّ وَلَمْ يُؤَنِّبْ وَلَمْ يَضْرِبْ(دوسری سند) ایک بدو مسجد میں داخل ہوا، جبکہ وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے، اس نے دعا کرتے ہوئے کہا: ”اے اللہ! مجھے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بخش دے اور ہمارے ساتھ کسی اور کو نہ بخش،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا پڑے اور فرمایا: ”تو نے تو وسیع چیز کو تنگ کر دیا ہے۔“ پھر وہ چل پڑا اور جب مسجد کے ایک کونے میں پہنچا تو ٹانگیں کھول کر پیشاب کرنے لگ گیا، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”صرف اور صرف اس گھر کو اللہ تعالیٰ کے ذکر اور نماز کے لیے بنایا گیا ہے، اس میں پیشاب نہیں کیا جاتا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا ایک ڈول منگوایا اور اس پر بہا دیا، وہ بدو دین کی سمجھ آنے کے بعد کہتا تھا: ”پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف کھڑے ہوئے، میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ مجھے برا بھلا کہا، نہ مجھے ڈانٹ ڈپٹ کی اور نہ مجھے مارا۔“