حدیث نمبر: 4119
عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ فِي عُمْرَتِهِ؟ قَالَ: لَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ اسماعیل بن ابی خالد کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پوچھاکہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عمرہ کے موقع پر بیت اللہ میں داخل ہوئے تھے؟ انہوں نے کہا: جی نہیں۔

وضاحت:
فوائد: … اس عمرہ کو عمرۂ قضیہ، عمرۂ صلح اور عمرۂ قصاص بھی کہتے ہیں، عمرۂ قضاء کی وجہ تسمیہیہ ہے کہ یہ عمرہ اس فیصلے کے مطابق تھا، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدیبیہ کے مقام پر مشرکوں کے ساتھ کیا تھا، اس سے مراد قضائی والا عمرہ نہیں ہے، کیونکہ جس کو راستے میں روک دیاجائے، اس پر قضائی واجب نہیں ہوتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عمرہ ٔ قضاء کے موقع پر کعبہ میں داخل نہیں ہوئے تھے، فتح مکہ کے موقع پر داخل ہوئے تھے، حجۃ الوداع کے موقع پر ایسے ہوا تھا یا نہیں، اس میں اختلاف ہے، وضاحت آ گے آ رہی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4119
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1600، 1791، ومسلم: 1332، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19336»