حدیث نمبر: 4115
عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: سُئِلَ كَمِ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: مَرَّتَيْنِ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: لَقَدْ عَلِمَ ابْنُ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدِ اعْتَمَرَ ثَلَاثَةً، سِوَى الَّتِي قَرَنَهَا بِحَجَّةِ الْوَدَاعِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ مجاہد کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ سوال کیا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتنے عمرے کئے تھے؟ تو انہوں نے کہا: دو، لیکن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ابن عمر رضی اللہ عنہ کو علم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج والے عمرے کے علاوہ کل تین عمرے کئے تھے۔

وضاحت:
فوائد: … صحیح بخاری کی ایک حدیث کے مطابق سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چار عمروں کا تذکرہ کیا ہے، اس حدیث میں حدیبیہ اور حجۃ الوداع والے عمروں کا تذکرہ نہیں کیا گیا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اول الذکر سے روک لیا گیا تھا اور مؤخر الذکر حج کے ساتھ ملا ہوا تھا، دوسرے دو عمروں کی طرح مستقل نہیں تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحج والعمرة / حدیث: 4115
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح بالشواھد ۔ أخرجه ابوداود: 1992، وأخرجه البخاري: 1775، 1776، 4253، 4254، ومسلم: 1255 مطولا بلفظ: يا ام المؤمنين! الا تسمعي ما يقول ابوعبد الرحمن؟ يقول: اعتمر رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم اربعا، احداھن في رجب؟ فقالت: يرحم الله ابا عبد الرحمن، أما انه لميعتمر عمرة الا وھو شاھدھا، وما اعتمر شيئا في رجب۔ ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5383 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5383»