الفتح الربانی
كتاب الحج والعمرة— حج اور عمرہ کے ابواب
بَابُ كَمْ حَجَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاعْتَمَرَ باب: اس چیز کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتنے حج اور کتنے عمرے کیے؟
حدیث نمبر: 4112
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ عُمَرٍ، عُمْرَةَ الْحُدَيْبِيَّةِ، وَعُمْرَةَ الْقَضَاءِ وَالثَّالِثَةَ مِنَ الْجِعْرَانَةِ، وَالرَّابِعَةَ الَّتِي مَعَ حَجَّتِهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چار عمرے کئے، ایک عمرۂ حدیبیہ ، دوسرا عمرۂ قضا، تیسرا جعرانہ مقام سے اور چوتھا حج کے ساتھ۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کل چار عمرے کیے: ۱۔ عمرۂ حدیبیہ، جوکہ مکمل نہیں ہوا تھا، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم راستے سے واپس آ گئے تھے، یہ ذوالقعدہ ۶ھ کا واقعہ تھا۔
۲۔ عمرۂ قضائ، یہ وہ عمرہ ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صلح حدیبیہ کے معاہدے کے مطابق اگلے سال ادا کیا تھا، یہ ذوالقعدہ۷ھ کا واقعہ تھا، اس سے مراد قضائی والا عمرہ نہیں ہے۔ بلکہ یہ مشرکوں کے ساتھ قضاء (فیصلہ) کے نتیجے میں ہوا تھا۔
۳۔ عمرۂ جعرانہ،جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوۂ حنین اور غزوۂ طائف سے فارغ ہو کر جعرانہ مقام پر پہنچے اور وہاں پڑاؤ ڈالا تو
اس دوران یہ عمرہ ادا کیا تھایہ فتح مکہ کے بعد۸ھ میں پیش آیا تھا۔
۴۔ حجۃ الوداع کے ساتھ والا عمرہ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج قران کیا تھا، یعنی ایک ہی احرام میں حج اور عمرہ کی ادائیگی مکمل کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ۱۰ ھ میں حجۃ الاسلام ادا کیا تھا۔
ہر عمرے کی اس کی مخصوص باب میں وضاحت آ رہی ہے۔
۲۔ عمرۂ قضائ، یہ وہ عمرہ ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صلح حدیبیہ کے معاہدے کے مطابق اگلے سال ادا کیا تھا، یہ ذوالقعدہ۷ھ کا واقعہ تھا، اس سے مراد قضائی والا عمرہ نہیں ہے۔ بلکہ یہ مشرکوں کے ساتھ قضاء (فیصلہ) کے نتیجے میں ہوا تھا۔
۳۔ عمرۂ جعرانہ،جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوۂ حنین اور غزوۂ طائف سے فارغ ہو کر جعرانہ مقام پر پہنچے اور وہاں پڑاؤ ڈالا تو
اس دوران یہ عمرہ ادا کیا تھایہ فتح مکہ کے بعد۸ھ میں پیش آیا تھا۔
۴۔ حجۃ الوداع کے ساتھ والا عمرہ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج قران کیا تھا، یعنی ایک ہی احرام میں حج اور عمرہ کی ادائیگی مکمل کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ۱۰ ھ میں حجۃ الاسلام ادا کیا تھا۔
ہر عمرے کی اس کی مخصوص باب میں وضاحت آ رہی ہے۔