الفتح الربانی
كتاب الطهارة— طہارت کے ابواب
بَابٌ فِي تَطْهِيرِ الْأَرْضِ مِنْ نَجَاسَةِ الْبَوْلِ باب: زمین کو پیشاب کی نجاست سے پاک کرنے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: دَخَلَ أَعْرَابِيٌّ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا وَلَا تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا، فَالْتَفَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((لَقَدْ تَحَجَّرْتَ وَاسِعًا))، ثُمَّ لَمْ يَلْبَثْ أَنْ بَالَ فِي الْمَسْجِدِ فَأَسْرَعَ النَّاسُ إِلَيْهِ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ، أَهْرِيقُوا عَلَيْهِ دَلْوًا مِنْ مَاءٍ)) أَوْ ((سَجْلًا مِنْ مَاءٍ))سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک بدو مسجد میں داخل ہوا اور دو رکعت نماز ادا کر کے یہ دعا کی: ”اے اللہ! مجھ پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحم فرما اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم نہ فرما۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”تو نے تو وسعت والی چیز کو تنگ کر دیا ہے۔“ پھر جلد ہی اس بدو نے مسجد میں پیشاب کرنا شروع کر دیا، پس لوگ اس کی طرف لپکے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ارشاد فرمایا: ”صرف اور صرف تم لوگوں کو آسانیاں پیدا کرنے والے بنا کر بھیجا گیا ہے اور تنگیاں پیدا کرنے والے بنا کر نہیں بھیجا گیا، اس پیشاب پر پانی کا ایک ڈول بہا دو۔“